خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 20
خطبات ناصر جلد نهم ۲۰ خطبه جمعه ۳۰/ جنوری ۱۹۸۱ء کے حقائق اور دقائق اس کے سامنے آئیں گے اور وہ ان سے فائدہ اٹھا سکے گا۔امام رازی نے دوسرے معنے یا حکمت یہ بیان کی ہے۔امام رازی نے ہی سعید بن جبیر سے یہ روایت کی ہے کہ آيَةً آيَةً اس لئے ہم نے اس کو آیت آیت نازل کیا اور کہا آہستہ آہستہ پڑھو کہ تا علی مُکث پڑھا جا سکے۔تا نرمی اور محل اور آہستہ آہستہ پڑھ کر سنایا جا سکے، جلدی جلدی نہ ہو۔بعض لوگ اس قدر جلدی تلاوت دوسروں کو سنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ پتہ ہی نہیں لگتا کہ الفاظ کیا ہیں حروف تو علیحدہ رہے۔قرآن کریم تعویذ نہیں ، قرآن کریم جادو نہیں، قرآن کریم موعظہ حسنہ سے بھری ہوئی کتاب ہے۔قرآن کریم ہماری زندگیوں میں ایک انقلاب عظیم بپا کرنا چاہتا ہے۔قرآن کریم ہماری زندگی کے ہر شعبہ میں رہنمائی کے لئے آیا ہے۔قرآن کریم ہمیں ان رستوں پر چلانا چاہتا ہے جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول تک لے جانے والے ہیں۔اس لئے قرآنِ کریم عظیم ہے کہ اعلان کیا اسی واسطے عَلى مُكث آ گیا کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (ال عمران : ۱۱) تم ایک ایسی امت ہو جس سے کسی کو دکھ اور بے آرامی نہیں پہنچ سکتی۔ہر شخص کی بھلائی کے لئے۔جو دھر یہ ہے اس کے لئے بھی خیر ہو تم ، جو مشرک ہے اس کے لئے بھی خیر ہو تم اور جو اسلام سے باہرکسی دین کا تابع ہے اس کے لئے بھی خیر ہو تم۔تمہارا کام سکھ پہنچانا ہے دکھ پہنچا نا نہیں۔اس قدر تاکید کی گئی کہ انسان حیران ہو جاتا ہے۔اتنا عظیم ہے یہ قرآن کہ اپنے متعلق اعلان کر دیا کہ میری عظمتوں، رفعتوں اور وسعتوں کو دیکھ کر غلطی نہ کر بیٹھنا۔میری وجہ سے کسی بیمار کو تکلیف نہ پہنچے کہ تم شور مچاچا کے راتوں کو اسے پڑھنا شروع کر دو۔میری وجہ سے کسی بچے کو جس کے لئے نیند پوری کرنا ضروری ہے، بے آرامی نہ ہو۔آہستہ آہستہ پڑھو اور رات کے وقت تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قدر تاکید کی ایک موقع پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا۔حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ تم اتنی آہستہ کیوں پڑھتے ہو کہ تمہارے اپنے کان تمہاری آواز نہیں سن رہے رات کے وقت تہجد میں دعائیں کرتے وقت۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ! اللہ تو دلوں کے حالات بھی جانتا ہے اونچی بولنے کی کیا ضرورت ہے۔آپ نے کہا نہیں آواز کو اتنا اونچا