خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 313 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 313

خطبات ناصر جلد نہم ۳۱۳ خطبہ جمعہ ۶ نومبر ۱۹۸۱ء اور بڑی مشکل پڑتی ہے۔ہم دیگیں کرایہ پر لے کے آتے ہیں فیصل آباد سے۔ان کی پھر صفائی کرنی پڑتی ہے ان کی قلعی کروانی پڑتی ہے اور وہاں سے لا نا اور پھر لے جانا۔کام بڑھ گیا تو میں نے کہا ٹھیک ہے آپ کا کام ہلکا کر دے گی جماعت۔میں نے تحریک کی۔ان کا اندازہ تھا کہ دوسو د یگ اگر ہمیں مل جائے تو کرایہ کی دیگوں کی جو زحمت ہے اور انتظام ہے ، اس سے ہم بچ جائیں گے۔میں نے جماعت کے امیر لوگوں کو کہا جو آسانی سے دو ہزار جو قیمت انہوں نے بتائی تھی ایک دیگ کی دے سکیں ، وہ دوسو دیگوں کے پیسے دے دیں۔دوسو دیگوں کے پیسے بنتے ہیں دو ہزار کے لحاظ سے چار لاکھ روپیہ اور بعض لوگ جو احمدی نہیں احمدیت سے باہر سمجھتے تھے کہ یہ کیسے ہو جائے گا کہ دو سو آدمی ایک ایک دیگ دے دے گا لیکن عملاً جو جماعت نے قربانی دی اس میں یکم نومبر ۸۱ ء تک اور اب تو ضرورت نہیں۔اب آئندہ نہ دیں لوگ۔ایک اس کے بعد بھی آ گیا یکم نومبر ۸۱ ء تک ۳۱۷ + ۱ - ۳۱۸ دیگوں کی قیمت آگئی ۲۰۰ کی بجائے۔۶٫۳۷,۸۹۱ روپے انہوں نے جب دیگیں بنوائیں تو مجھے خیال آیا میں نے ہی ان کو کہا کہ پوری دیگ جو ہے بعض دفعہ آدھی دیگ پکانی پڑتی ہے اگر پوری دیگ میں آدھی دیگ پکا ئیں سالن تو ضیاع ہوتا ہے پیسے کا۔زیادہ آگ چاہیے پکانے کے لئے گرم کرنے کے لئے۔تو کچھ وہ دوسری دیگیں بھی بنائی گئیں۔اور یہ قریباً ۲۴۰ دیگیں بن گئیں اور اس کے بعد بہت سی رقم بچ گئی۔جو بچ گئی رقم یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ آپ نظام جلسہ کو اجازت دے دیں کہ دیگوں کی بجائے ایک اور ضرورت تھی وہ پوری انہوں نے کی ہے مجھ سے پوچھ کے وہ کر لیں کیونکہ پیسے دینے والے نے دیگ کی نیت کی تھی۔کھانے کے برتن Stainless Steel کے۔یہ انہوں نے بنائے ہیں ہزار آدمیوں کے لئے۔ایک ہزار کو کھانا کھلانے کے لئے Stainless Steel کے برتن لئے ہیں۔جس کے اوپر = / ۴۸۳۶۰ روپے خرچ آئے ہیں۔یہ اسی دیگوں والی مد سے خرچ کئے گئے ہیں۔اور پانچ سو کی چائے کے لئے Stainless Steel کے برتن لئے گئے ہیں جن کے اوپر = / ۱۳۴۰۰ روپے خرچ آیا ہے۔ابھی کچھ رقم بچی ہوئی ہے۔دار الضیافت کو میں کہتا ہوں کہ اسے ریزرو میں دیگوں کے لئے رکھیں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ آنے والے جلسے پر یہ محسوس کریں