خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 305
خطبات ناصر جلد نهم ۳۰۵ خطبه جمعه ۶ نومبر ۱۹۸۱ء میں اس کے پھر آگے تین معنی بنتے ہیں۔ایک اُس دشمن کے خلاف انتہائی کوشش جو زور کے ساتھ اور طاقت کے ساتھ اور ہتھیاروں کے ساتھ اسلام کو مٹانا چاہتا ہے اور جیسے ایک اصطلاحی چھوٹا سا ایک محاورہ ہمارا ہے۔مجاهدة العدو اسلام کا جود ثمن ہے اس کی تمام ایسی کارروائیاں کہ جو اسلام دشمنی پر مبنی ہیں، اُن کا پورے زور کے ساتھ مقدور بھر کوشش کر کے مقابلہ کرنا اور انہیں نا کام کرنا۔اس کے دوسرے معنی شیطان کے خلاف مقدور بھر کوشش کرنا۔مجاھدۃ الشیطن۔شیطان بالواسطہ یہ جو انسان، انسان کا دشمن بنتا ہے مجاهدة العدو کے پیچھے بھی شیطانی قوتیں، وساوس حرکت کر رہے ہیں لیکن یہاں قرآن کریم کی تعلیم نور لے کے آئی۔مجاھدۃ الشیطن کے معنے ہم یوں کریں گے کہ ظلمات کو اللہ ، قرآن اور محمد کے نور کے ذریعے سے نور میں بدل دینا۔ظلمت کو مٹا کے نور آ جائے اور قرآن کریم کے تمام نواہی نے گند مٹا کر اور اوامر۔ہرامر جو ہے وہ نور پیدا کرنے والا ہے کیونکہ ہر امر کی ، حکم کی جو اطاعت ہے وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو کھولنے والی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والے نور کی وارث بنانے والی ہیں اور مجاهدة النفس کے تیسرے معنی یہ ہیں کہ جو شیطان کے وار ہر انسان پر پڑتے ہیں اُن کا مقابلہ کرنا اور نا کام بنانا شیطان کو۔شیطان نے آدم کی پیدائش کے وقت خدا تعالیٰ سے یہ اجازت لی تھی تمثیلی زبان میں کہ میں تیرے بندوں کو جنہیں تو نے اپنا عبد بنانے کے لئے پیدا کیا ہے یعنی وہ تیرے بندے بن جائیں تیرے ہو جا ئیں تجھ میں فانی ہو کر ایک نئی زندگی پانے والے ہوں۔میں اُن کو دوزخ کی طرف لے جانے کی انتہائی کوشش کرتا رہوں گا۔قرآن کریم نے اعلان کیا جو میرے بندے ہوں گے حقیقتاً اُن پر تیرا زور نہیں چلے گا۔ہاں جو خود میرے بندے نہ بننا چاہیں اور اہوائے نفس اور شہوات نفس کے پیچھے چلنے کی کوشش کریں وہ تیرے گروہ میں شامل ہو جائیں گے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجاهدة النفس کے متعلق۔جَاهِدُوا أَهْوَاءَكُمْ ہر شخص کا ، ہر فرد کا یہ فرض ہے کہ وہ اہوائے نفس کے خلاف انتہائی کوشش کرے اور اُس نفس کو جو شیطان کی طرف گھسیٹنے والا ہے اُس کی ہیئت کذائی بدل کر ایسا بنا دے جو اللہ تعالیٰ کی طرف