خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 266
خطبات ناصر جلد نهم ۲۶۶ خطبہ جمعہ ۱۸؍ ستمبر ۱۹۸۱ء بھر کر واپس جائیں۔اس کے لئے ابھی سے تیاری کریں۔استغفار کریں۔لاحول پڑھیں۔شیطان کو اپنے سے دور رکھنے کی کوشش کریں۔خدا سے دعائیں مانگیں کہ ہماری زندگی کا جو مقصد ہے حاصل ہو۔ایک ہی ہے مقصد ہماری زندگی کا اس کے علاوہ ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں اور مقصد یہ ہے کہ اس دنیا میں آج سارے انسانوں پر اسلام اپنے دلائل، اپنے نور ، اپنے فضل ، اپنی رحمت ، اپنے احسان کے نتیجہ میں غالب آئے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے نوع انسانی جمع ہو جائے۔دوسری تیاری کرنی ہے منتظمین نے۔وہ بھی بغیر تیاری کے کچھ دے نہیں سکتے۔ایک تو وہ ہیں جو لینے والے ہیں اور معطی حقیقی تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس لئے میں نے کہا اس کا دروازہ کھٹکھٹاؤ تا کہ تمہاری جھولیاں بھر جائیں۔ایک ہیں دینے والے اور جو دینے والے ہیں ان کو قرآن کریم نے دو تین لفظوں میں بیان کیا کہ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا الانفال : ۵ ) مومن مومن میں فرق ہے۔ایک وہ گروہ ہے جو محض عام مومن نہیں بلکہ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا جن کے متعلق میں نے پچھلے خطبے میں بتایا تھا خدا نے یہ کہا کہ اے محمد ! حَسْبُكَ اللهُ وَمَن اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ (الانفال :۶۵) کہ تیرے لئے وہ مومن کافی ہیں جو تیری کامل اتباع کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی وحی پر پورا عمل کرنے والے اور توحید خالص پر قائم اور ان راہوں کی تلاش میں لگے رہنے والے جن راہوں پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم ہیں اور ان نقوشِ قدم کو دیکھ کر ان راہوں کو اختیا ر کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والے ہیں۔کامل متبعین ! خدا تعالیٰ کے حکم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔اِن اَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى (الاحقاف :١٠ ) - خدا تعالیٰ کی وحی کو ہی سب کچھ سمجھنے والے اور اس سے باہر کسی چیز کی احتیاج نہ رکھنے والے۔ایسا بننا چاہیے منتظمین کو بھی۔دعاؤں کے ساتھ آپ اپنا پروگرام بناتے ہیں۔اس میں برکتیں بھی پڑسکتی ہیں اور برکتیں نہیں بھی پڑسکتیں۔دعائیں کریں گے تو بابرکت ہوجا ئیں گے۔دعائیں کریں گے آپ کے منہ سے نکلا ہوا ایک فقرہ دنیا میں ایک انقلاب عظیم بپا کر دے گا۔