خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 248
خطبات ناصر جلد نہم ۲۴۸ خطبہ جمعہ ۱۱ارستمبر ۱۹۸۱ء کی راہ میں روک ہوئی، کچھ مضمون لمبا ہوا۔بہر حال پہلے خطبہ میں میں نے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے متعلق بتایا۔بہت کچھ بتایا۔سب کچھ تو نہیں بتا سکتا۔خدا کی ذات تو نہ ختم ہونے والی تجلیات والی ذات ہے۔بہر حال جو بتایا اس کا خلاصہ ایک فقرے میں یوں کروں گا اس وقت کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات میں بے مثل ہے اور ہر قسم کی کمزوریوں سے پاک اور لَهُ الاسماء الْحُسْنٰى ( الحشر : ۲۵) تمام صفات حسنہ سے متصف ہے۔وہاں تفصیل بتائی تھی۔قرآن کریم کے متعلق جو میں نے خلاصہ آخر میں خطبے کے ایک ایک فقرہ کہا وہ میں دہرانا چاہتا ہوں تا کہ تسلسل آپ کے دماغ میں تھوڑا بہت قائم ہو جائے وہ یہ۔(۱) قرآن کریم کے متعلق قرآن کریم کے اپنے دعوی کے مطابق قرآن عظیم ایک کامل کتاب ہے اس معنی میں کہ قیامت تک کے لئے انسانی ضروریات کو پورا کرنے والی یہ کتاب ہے۔(۲) اپنی وسعت اور حدود میں ہر ضروری چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔(۳) اپنے سے باہر کسی شے کا محتاج نہیں۔مفردات راغب نے امت کے یہ معنی کئے ہیں کہ اس کی یہ صفت ہے۔یہ جو اتممت کا لفظ ہے یہ اس صفت کو بتاتا ہے کہ خارج کی کسی چیز کی احتیاج نہیں ہے اس کو اتممتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى (المائدة : ۴) ساری کی ساری نعمتیں قرآن کریم کے ذریعے پوری کر دی گئیں۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی پیروی کا جہاں تک تعلق ہے اور اس کی رضا کے حصول کا جہاں تک تعلق ہے قرآن سے باہر کوئی ایسی چیز نہیں جس کی انسان کو ضرورت ہو۔(۴) یہ کہ قرآن عظیم حکیم حکمتوں کا خزانہ ہے۔بصائر ہیں اس کے اندر۔دلیل دیتا ہے، وجہ بیان کرتا ہے۔انسانی فطرت اور انسان کی عقل کو تسلی دلاتا ہے۔حق و باطل میں فرق کر دیتا ہے۔(۵) یہ کہ قران " ہے۔ہمیشہ پڑھی جانے والی کتاب۔قرآن اس وجہ سے ہے کہ اس کی ضرورت قیامت تک کے انسان کو کثرت سے پڑتی رہے گی اور چونکہ ضرورت پڑتی رہے گی ،، اس واسطے یہ کثرت سے پڑھا بھی جائے گا قرآن۔(۲) عَرَبِيًّا اپنا مطلب کھول کر بیان کرنے والا ہے۔