خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 240 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 240

خطبات ناصر جلد نهم ۲۴۰ خطبه جمعه ۲۸/اگست ۱۹۸۱ء اخلاق اس کی زندگی میں ظاہر ہوں گے۔اس لحاظ سے وہ کچھ مشابہت رکھتا ہے لیکن مثل نہیں۔لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ خدا تعالیٰ کی مثل نہ کبھی ہوئی ، نہ ہے ، نہ کبھی ہوگی۔وہ صمد ہے، وہ غنی ہے اس معنی میں کہ اسے کسی غیر کی احتیاج نہیں۔اس لئے کہ اس کی عظمتوں کی یہ شان ہے کہ جب وہ کچھ کرنا چاہتا ہے تو اس سے زیادہ اسے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں کہ (کن) حکم دے کہ ایسا ہو جائے تو وہ ہو جاتا ہے۔جو اس قسم کی طاقت رکھنے والا ہمارا رب کریم ہے اسے کسی کی احتیاج کی ضرورت کیسے ہو سکتی ہے لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہر غیر کو اس کی احتیاج ہے اور جب میں ”ہر غیر کو اس کی احتیاج ہے“ کا فقرہ بولتا ہوں تو میں سچ مچ یہ ایمان رکھتا ہوں کہ ہر غیر کو اس کی احتیاج ہے اور اس کے لئے ضروری تھا کہ ہر غیر کے ساتھ اس کا ذاتی تعلق ہو ورنہ ضرورت پوری نہ ہو اور احتیاج کا پتہ ہی نہ لگے۔پس ہر غیر کو اس کی احتیاج ہے۔وہ زندہ ہے اپنی ذات میں اور اس وقت تک ہر غیر زندہ ہے جب تک اس کے ساتھ تعلق رہے۔اور وہ قائم ہے اپنی ذات میں اور غیر کو حاجت ہے اس بات کی کہ اس کا تعلق خدائے واحد و یگانہ، ی وقیوم۔قادر مطلق کے ساتھ قائم ہو۔اس کی حکومت ، اس کا امر اس کائنات میں چل رہا ہے پتہ اس کے حکم کے بغیر نہیں گرتا، قرآن کریم کا یہ بیان ہے درختوں کے متعلق۔پت جھڑ کا ایک موسم آتا ہے۔مختلف موسموں میں مختلف قسم کے درختوں کے مختلف طریقے سے جھڑتے ہیں۔بعض درخت ہیں کہ سارا سال پت جھڑ ہوتی رہتی ہے اور سارا سال نئے پتے نکلتے رہتے ہیں۔بعض درخت ہیں کہ موسم خزاں میں پت جھڑ ہوتی ہے اور پھر ساری سردیاں کوئی پتہ نہیں نکلتا اور ایک مردہ کی حیثیت میں وہ سردیاں گزارتے ہیں اور پھر موسم بہار میں نئے پتے نکل آتے ہیں اور بعض ایسے درخت ہیں جو موسم بہار میں پت جھڑ کرتے ہیں ، پتے جھڑتے ہیں اور اسی وقت نئے پتے نکل آتے ہیں۔ہمارے کالج کی لاج میں جہاں میری رہائش تھی ایک ایسا درخت لگا ہوا تھا جو موسم بہار میں پت جھڑ کرتا تھا ، ساتھ ہی نئے پتے نکلتے تھے اس میں۔ایک دن مجھے خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ کہا کہ میرے حکم کے بغیر کوئی پتہ نہیں گرتا تو میں اس کا مشاہدہ کروں۔میں نے ایک ٹہنی کو چنا۔اس ٹہنی پر بہت سے سبز پتے تھے اور جہاں