خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 200 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 200

خطبات ناصر جلد نہم ۲۰۰ خطبہ جمعہ ۱۷؍جولائی ۱۹۸۱ء کے اوپر آتا ہے کہ جس قسم کا حسن اور روپ دنیا کی کوئی طاقت کسی انسان کو بخش نہیں سکتی۔انسان کے لئے اپنے رب کا عبد بننا، اس کے اخلاق کا حسن اپنے اخلاق پہ چڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ وہ عاجزانہ راہوں کو اختیار کرے اور فنا اپنے پر وارد کرے۔ہماری اصطلاح میں ، اسلام کی اصطلاح میں یا صوفیا کی اصطلاح میں فنا اور لقا اور بقا۔یہ تین آگئی ہیں اصطلاح۔فنا کے بغیر اللہ تعالیٰ کا قرب مل ہی نہیں سکتا یعنی ہر چیز کو خدا کی راہ میں قربان کر دینا یہی فنا ہے نا اپنا وجود بھی باقی نہ رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے سب کچھ کرو، خدا کے حضور پیش کرو، اعمال بجالا ؤ سب کچھ کرنے کے بعد سمجھو کہ تم نے کچھ نہیں کیا۔ایک تو اس لئے بھی کہ جو کچھ تم نے کیا جب تک وہ مقبول نہ ہو جائے تمہیں کچھ مل نہیں سکتا اور وہ مقبول ہو نہیں سکتا جب تک دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو تم جذب نہ کرنے والے ہو اور دعا قبول نہیں ہوسکتی ، صلوۃ قبول نہیں ہوسکتی جب تک عجز اور انکسار کی بنیادوں کے اوپر اسے کھڑا نہ کیا جائے اور اسی طرح فنا ہے۔اللہ تعالیٰ اس رنگ میں ہمیں اپنی زندگیاں گزارنے کی توفیق عطا کرے کہ ہمیں اس کا قرب اور پیار اور رضا حاصل ہو جائے اور اس کی طاقتوں سے ہم طاقت لینے والے اور اس کی قدرتوں کے جلوے ہماری زندگیوں میں ظاہر ہونے والے ہوں تا کہ اس صورت میں ہم ان ذمہ داریوں کو نباہ سکیں جو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں غلبہ اسلام کے لئے ہمارے کندھوں پر ڈالی ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق دے۔آمین۔( از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )