خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 186
خطبات ناصر جلد نهم ۱۸۶ خطبہ جمعہ ۱۰ جولائی ۱۹۸۱ء حق کی ادائیگی کی ضمانت دی اور جو حق ادا نہیں کرتا۔یعنی خدا تعالیٰ کا قائم کردہ حق ، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کومول لیتا ہے اور اس کی جہنم میں جانے کے لئے کوشش کر رہا ہے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔تو حقیقی خوشیوں کا انحصار اس بات پر ہے کہ انسان دعاؤں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کو جذب کرے اور پیچھے جو باتیں میں نے بیان کیں ان کو وہ حاصل کرنے والا ہو۔سچا اور حقیقی مومن بننا شرط ہے قرآن کریم میں الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا (الانفال: ۵) کا لفظ استعمال کیا ہمیں سمجھانے کے لئے کہ محض کہہ دینا اپنے آپ کو کافی نہیں بلکہ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا حقیقی مومن۔سوال یہ ہے کہ حکم کون ہے دنیا میں کہ جو کہے کہ حقیقی مومن فلاں ہے اور فلاں نہیں ظاہر ہے کہ یہ اعلان کیا گیا کہ جو میری نگاہ میں مومن ہوگا اس کے حق میں یہ ساری باتیں پوری کی جائیں گی اور یہاں یہ بتایا پھر کہ لِلْمُؤْمِنُونَ میں اس طرف اشارہ کیا اور اگلی آیت میں پھر کھول کے بیان کیا کہ مومن وہ ہے جو ہر کبھی سے پاک ہے۔یہ آٹھویں بات اس میں بتائی۔اس واسطے ہیر پھیر والا ہے ناہمارا محاورہ کہ ہیر پھیر کرنا۔قولِ سدید نہ ہونا اس میں بھی ہیر پھیر کر جانا۔یہ لعنت ہے اس سے بچنا چاہیے ہر انسان کو۔بعض عادتیں لعنتی جو ہیں وہ معصوم بھی ہوتی ہیں لیکن خطر ناک بہر حال ہوتی ہیں۔ایک دوست تھے ان سے جب آپ سوال کریں کبھی سیدھا جواب نہیں دیتے تھے۔ایک دن دہلی میں تھے وہ ۴۴ء کی بات ہے میں نے ان سے کہا کہ قرآن تو کہتا ہے قولِ سدید کہو اور آپ کی یہ عادت بچپن سے کہیں بیچاروں کو پڑ گئی تھی۔میں نے کہا اتنی عادت آپ کو یہ پڑگئی ہے سیدھا جواب نہ دینے کی۔انہوں نے ترکی ٹوپی پہنی ہوئی تھی سرخ سے رنگ کی۔اتنی تمہید کے بعد میں نے کہا اب میں آپ سے پوچھوں گا اس ٹوپی کا ، کیا رنگ ہے تو آپ مجھے صحیح جواب نہیں دیں گے اور انہوں نے نہیں دیا صحیح جواب۔ہیرا پھیری شروع کر دی۔حالانکہ وہ تو کوئی ایسا مسئلہ ہی نہیں تھا۔تو مومن وہ ہے جو ہر کمی سے پاک ہے۔خدا نے اعلان کیا اور جو ہر بچی سے پاک ہے اور مومن ہے اس کے حق میں یہ وعدے پورے ہوں گے جن کا ذکر اس میں ہے۔