خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 182
خطبات ناصر جلد نهم ۱۸۲ خطبہ جمعہ ۱۰ جولائی ۱۹۸۱ء دوسری چیز اس میں یہ ہے کہ شفاء لِمَا فِي الصُّدُورِ(یونس: ۵۸)۔سینہ کی تمام بیماریوں کے لئے یہ شفا ہے۔یہ عربی کا یا قرآن کریم کا محاورہ ہے۔انگریزی میں ایک لفظ ہے Mind اور Heart۔یہ دونوں انگریزی زبان محض لوتھڑے کے معنی میں استعمال نہیں کرتے جو ہمارے سینے میں دھڑک رہا ہوتا ہے بلکہ جو عقل کا نقطہ اور سر چشمہ ہے جس سے علم کے سوتے پھوٹتے ہیں اس کو بھی انگریزی میں Heart اور Mind کہتے ہیں اور عربی زبان میں عقل کہتے ہیں۔جو ہمارے سینہ میں دھڑک رہا ہوتا ہے اس کو بھی کہتے ہیں دل اور قلب اور اس کو بھی کہتے ہیں جو عقل اور علم کا سر چشمہ بن جاتا ہے۔تو روح کا تعلق دل کے دھڑ کنے کے ساتھ نہیں۔روح کا تعلق اس خدا دا د عقل اور فراست اور علم کے ساتھ ہے جو روح کی پرورش کرتا ہے علم اور جو راہیں روح کی نشوونما کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بتائی ہیں ان راہوں کی طرف لے کے جاتا اور ان پر روح کی کوششوں کو قائم کرتا ہے۔قرآن کریم میں بعض دوسری جگہ اس کی وضاحت بھی کی۔مثلاً فرمایا کہ آنکھوں کی بصارت کا ذکر ہم نہیں کرتے۔وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ (الحج : ۴۷) جو دلوں میں قلوب ہیں یعنی Mind اور وہ عقل کا سر چشمہ اور علم کا جو ہے وہ اندھا ہو جاتا ہے اور اس میں امام راغب کہتے ہیں عقل کی طرف اور علم کی طرف اشارہ ہے اور اندھا پن بھی ہے یعنی جو عقل اندھی بھی ہوتی ہے۔ہمارے اردو میں بھی محاورہ آ گیا ہے اور عقل بہری بھی ہوتی ہے یعنی جو اس کے فائدہ کی بات ہے وہ سننے کے لئے تیار۔ایک لڑائی ہو جاتی ہے۔مادی دلچسپیوں کی روحانی حقائق کے ساتھ اور عقل جو ہے وہ مادی دلچسپیوں میں کھوئی جاتی ہے اور گم ہو جاتی ہے اور ختم ہو جاتی ہے اور مرجاتی ہے اور جس غرض کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے اس غرض کو وہ پورانہیں کر رہی ہوتی یا اسے خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کی بتائی ہوئی ہدایت کے مطابق عمل کرنے کے نتیجہ میں حیات ملے۔قرآن کریم میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر کان دھرو اس لئے۔اس لئے کہ تمہیں وہ اس لئے بلا رہے ہیں کہ تمہیں زندہ کریں لیکن اس قسم کا بہرہ پن جو ہے یہ بھی ایک بیماری ہے۔جس کی شفا قرآن کریم کہتا ہے کہ شِفَاء لِمَا فِي الصُّدُورِ قرآن کریم دل کی ،