خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 170
خطبات ناصر جلد نهم ۱۷۰ خطبہ جمعہ ۳ جولائی ۱۹۸۱ء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک غلام کی حیثیت سے، ایک روحانی فرزند کی حیثیت سے، ایک عظیم اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں اور قوت قدسیہ کے نتیجہ میں فاتح جرنیل کی حیثیت سے، اسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے اتنے عظیم اسرار قرآنی اور اس کے معانی سکھائے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔پچھلی صدی کے آخر میں اسلام پر غیروں کا زبردست حملہ تھا اور ہر مذہب یہ سمجھتا تھا کہ شاید وہ اسلام کو مٹانے میں کامیاب ہو جائے گا۔عیسائیت ساری دنیا میں پھیل جانے کے خواب دیکھ رہی تھی اور اس وقت ہندوستان بٹوارے سے پہلے جس شکل میں تھا ، بڑے بڑے مسلمان علماء مثلاً عمادالدین صاحب اور دیگر بہت سارے ہیں ان کے نام چھپے ہوئے ہیں کتابوں میں، انہوں نے اس اثر کے ماتحت اسلام چھوڑ کے عیسائیت کو قبول کر لیا تھا اور انہی حضرت عماد الدین نے یہ لکھا کہ عنقریب ایک زمانہ آنے والا ہے ہندوستان میں کہ جب سارے ہندوستان کے مسلمان عیسائی ہو چکے ہوں گے اور اگر کسی شخص کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوگی کہ مرنے سے پہلے کسی مسلمان کا چہرہ تو دیکھ لے تو اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہوگی یعنی ایک بھی مسلمان نہیں رہے گا۔ہندو آریوں کی شکل میں حملہ کر رہے تھے۔بدھ مذہب اپنی تیزیاں دکھا رہا تھا۔فلسفیانہ خیالات جو خدا تعالیٰ کو چھوڑ کے اپنی عقل سے باتیں بناتے ہیں ، وہ بھی یہ امید میں رکھ رہے تھے کہ اسلام کو مٹادیں گے مثلاً کارل مارکس ہے، اپنے زمانہ کا بڑا فلسفی اور اس کے خیالات کے نتیجہ میں دنیا میں اشتراکیت آئی۔جس نے یہ دعویٰ کیا ( اشتراکیت نے ) کہ ہم زمین سے خدا کے نام اور آسمانوں سے خدا کے وجود کو مٹادیں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ کا منصوبہ کچھ اور تھا۔اللہ تعالیٰ کا منصوبہ یہ تھا کہ اسلام کو غالب کرے اور ہر وہ طاقت خواہ وہ مذہب کا لباس پہن کے ، خواہ وہ عقل اور فلسفے کی چادر میں لپٹ کے اسلام پر حملہ آور ہو، نا کام کر دیئے جائیں گے۔اس لئے جو محد صلی اللہ علیہ وسلم کا جرنیل بن کے آیا اسے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں وہ سارے مذاہب اور ازم اور تحریکیں جو اسلام کو مٹانے میں کوشاں تھیں۔ان کے خیالات کا جواب قرآن کریم سے سکھایا اتنا موثر کہ اس کے سامنے کوئی ٹھہر نہیں سکتا۔