خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 155 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 155

خطبات ناصر جلد نهم خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۸۱ء روکیں جو سامنے آئیں ان سب کو خدا تعالیٰ نے دور کر دیا اور سارے منصوبے جو جماعت کو نا کام کرنے کے لئے یا جماعت کو نابود کرنے کے لئے بنائے گئے نا کام ہو گئے۔ابتدائی زندگی میں ہماری جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اکیلے تھے دنیا میں ایک شخص آپ کو قتل کر کے جماعت احمدیہ کو نابود کر سکتا تھا، خدا تعالیٰ نے وہ ایک نہیں پیدا کیا۔پھر جب آپ کے گرد ہزاروں ہو گئے تو بیسیوں ہزار جو تھے وہ نابود کر سکتے تھے اگر ایک دس کی نسبت بھی رکھی جائے تو جو چار ہزار قرآن کریم کی بشارت کے مطابق چالیس ہزار کے اوپر بھاری تھا لیکن ایک لاکھ تو ان کو نابود کر سکتا تھا، وہ لاکھ نہیں پیدا ہوا۔پھر وہ چھوٹے سے علاقے میں، پھر پنجاب میں، پھر ہندوستان میں پھیلے اور پھر یہ جماعت ساری دنیا میں پھیل گئی۔اور وعدہ یہ ہے کہ اگر ساری دنیا، دنیا کے سارے عیسائی، سارے یہودی ، سارے بدھ مذہب والے، سارے بت پرست، سارے دہریہ، سارے اشترا کی اور دوسرے مذاہب والے اکٹھے ہوکر جماعت احمدیہ کو نابود کرنا چاہیں گے نا کام ہوں گے۔یہ خدا تعالیٰ نے بشارت دی ہے۔ترانوے سال میں ہماری آنکھوں نے اس بشارت کو پورا ہوتے دیکھا۔دوسرے یہ ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ هُذَا بَيَانُ لِلنَّاسِ (ال عمران: ۱۳۹) یہ کھول کے باتیں بیان کی گئی ہیں، یہ ہدایت ہے، یہ موعظہ ہے نصیحت ہے متقیوں کے لئے ( قرآن کریم ) اس لئے ہم تمہیں یہ کہتے ہیں کہ اپنے رب پر کامل تو گل رکھو اور پورا یقین رکھو اور کمزوری نہ دکھاؤ اور غم نہ کرو تمہیں اس کی ضرورت نہیں۔پورا تو کل ہوگا اگر تمہارا ، اگر تم تقویٰ پر قائم رہو گے۔اگر ایمان اور اسلام کے تقاضوں کو پورا کرنے والے ہو گے، اگر تم حقیقی اور سچے مومن رہو گے تو تمام شعبہ ہائے زندگی میں بالا دستی تمہیں ہی حاصل رہے گی۔اَنْتُمُ الْأَهْلُونَ اِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (آل عمران:۱۴۰) کا تعلق محض میدانِ جنگ سے نہیں۔ایک وقت میں مجبور ہو گیا تھا اسلام، تلوار میان سے نکالنے کے لئے جب کفر نے تلوارمیان سے نکالی اور مادی طاقت سے نابود کرنا چاہا تو خدا تعالیٰ نے کہا اگر تم تلوار کا معجزہ دیکھنا چاہتے ہو تو چلو ان ٹوٹی ہوئی تلواروں سے ہم اپنی قدرت کا تمہیں نشان دکھا دیتے ہیں اور دکھا دیا لیکن آغکون یعنی بالا دستی تمہاری ہے