خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 133
خطبات ناصر جلد نهم ۱۳۳ خطبہ جمعہ ۵ /جون ۱۹۸۱ء اور کامیابی ہے، اس میں تمہاری ساری کوششیں ناکام ہوں گی۔یہ نمبر ایک کے تین پہلو ہیں۔دوسرے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو کفر اور فسق اور ظلم کی زندگی گزارنے والے ہیں ان کی دعائیں رد کر دی جائیں گی۔اور تیسرے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کا فر ، فاسق اور ظالم سے اللہ تعالیٰ ہم کلام نہیں ہوتا۔نہ پیار کی باتیں ان سے کرتا ہے نہ ان سے ان کے عذر سنے گا قیامت کے دن۔اور چوتھا سلوک یہ بتایا کہ ان پر نظرِ التفات نہیں ڈالتا۔دعا کے بغیر جوضرورتیں وہ اس زندگی میں پوری کرتا ہے محض اپنے فضل سے وہ پوری نہیں کرے گا۔اور پانچویں یہ کہ وہ انہیں پاک نہیں ٹھہرا تا ، نہ اس زندگی میں جب تک ان کی یہ حالت ہے، نہ اُخروی زندگی میں جب تک وہ جہنم میں جانے کے بعد ایک اور راستہ سے پاک ہو کر جنت میں نہیں جاتے۔کیونکہ جہنم جو ہے وہ اسلام کے نزدیک ہمیشہ کے لئے نہیں ، اصلاحی ہے جب تک ان کی اصلاح نہیں ہوتی انہیں پاک نہیں ٹھہراتا جس کے معنے اس دنیا میں یہ ہیں اور اس دنیا میں بھی کہ ان تمام افضال اور نعماء سے محروم کئے جاتے ہیں جو ان لوگوں کو ملتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں پاک ہیں۔اس لئے نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ کے سوا کوئی شخص بھی دوسرے کو کا فرنہیں کہہ سکتا۔سوائے اس کے کہ یہ دعویٰ کرے کہ جس کو میں کا فرکہوں گا اس کے متعلق خدا تعالیٰ کو مجبور کرنے کی بھی اہلیت رکھتا ہوں ان پانچ باتوں کے متعلق بھی جس کو میں کا فر کہوں گا خدا تعالیٰ کی اس پر لعنت پڑے گی۔اس پر خواہ خدا تعالیٰ نہ سمجھے اسے کافر۔خدا تعالیٰ اس کی دعائیں سننی چھوڑ دے گا۔خدا تعالیٰ اس سے ہم کلام نہیں ہو گا ، خدا تعالیٰ اس پر نظرِ التفات نہیں ڈالے گا، خدا اس کو پاک نہیں ٹھہرائے گا۔جو شخص یہ دعوی کرے کہ میں خدا تعالیٰ کو اپنے بندوں سے اس سلوک پر مجبور کر سکتا ہوں صرف وہ یہ دعوی کر سکتا ہے کہ میں کسی بندہ کو کافر ٹھہر اسکتا ہوں۔اس سے یہ بھی نتیجہ نکلا کہ خدا تعالیٰ کے وہ بندے جو ان افضال اور نعمتوں کے وارث ہورہے ہیں اس زندگی میں جن کا وعدہ ان لوگوں کو دیا گیا ہے۔جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں پاک ٹھہرتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے وہ بندے جو اپنے رب کریم کی نگاہ میں پیار دیکھتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے وہ بندے جن سے ان کا پیار کرنے