خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 105
خطبات ناصر جلد نهم ۱۰۵ خطبه جمعه ۱۵ رمئی ۱۹۸۱ء جس جگہ کوئی چیز ہونی چاہیے وہاں نہ رکھنا اس کو ، جس کا حق ہے وہ لے لینا۔جو طاقت مثلاً ایٹم میں رکھی انسانیت کی بھلائی کے لئے انسان کی ہلاکت کے لئے اُسے استعمال کرنا۔تو جب بھی تم احکام الہی کو توڑو گے، تمہاری زندگی ظالم اور مظلوم والی زندگی بن جائے گی۔فَأُولَبِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ تو جہاں ظالم ہے وہاں مظلوم بھی تو ہے۔کسی ظالم نے کسی پر ظلم بھی کیا ہے نا۔تمہارا معاشرہ احسان کرنے والے اور شکر گزار بندوں کا نہیں ہوگا بلکہ ایک حصہ ظلم کر رہا ہو گا ایک حصہ ظلم سہہ رہا ہوگا اور ظلم سہنے والا حصہ جب اس کو موقع ملے گا وہ ظالم بن جائے گا اور ایک دوسرا حصہ ظلم سہنے والا بن جائے گا اور اللہ تعالیٰ نے ظالموں کے متعلق جو سزا قرآن کریم میں بتائی ہے وہ تو بہر حال اس کو ملنی ہے لیکن اس معاشرے میں بھی ایک گند پیدا ہو گا۔تیسری سزا یہ بتائی کہ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمُ بِمَا انْزَلَ اللهُ فَأُولَبِكَ هُمُ الْفَيسِقُونَ (المائدة : ۴۸) و شخص یا وہ لوگ یا وہ معاشرہ یا ده سیاسی اقتدار یا ده اقتصادی ازم (Ism) جو اللہ تعالیٰ کے احکام کو توڑنے والا ہے۔وو فأوليكَ هُمُ الفيسقُونَ چوتھی ان کی صفت ہمیں یہ نظر آتی ہے کہ وہ فاسق ہیں اور معصیت کے کام کرنے والے ہیں وہ اپنے نیک کاموں سے اپنے نفس پر اسلامی حسن نہیں چڑھانے والے بلکہ گندا معاشرہ پیدا کرنے والے ہیں۔وہ فسق و فجور میں مبتلا ہونے والے ہیں اور اگر تم خدا تعالیٰ کے احکام کو نظر انداز کر دو گے ، انہیں توڑ دو گے، ان پر عمل نہیں کرو گے تو ایسا معاشرہ پیدا ہو جائے گا جو فاسقوں کا معاشرہ ہے۔اخلاقی لحاظ سے گراوٹ ، بدعہدی، بد نیتی ، امانتوں کا خیال نہ رکھنا، لوگوں کے حقوق تلف کرنا، بچیوں کی عصمت کی حفاظت کا خیال نہ رکھنا وغیرہ وغیرہ یہ چیزیں ہمیں ایسے معاشرہ میں آج نظر آتی ہیں۔یورپ میں جو مہذب دنیا کہلاتی ہے اس میں بھی خدا تعالیٰ کے احکام کو توڑنے کے نتیجہ میں انہوں نے ایک نہایت گندی زندگی کو قبول کیا۔یہاں یہ جو آیت ہے جس کے آخر میں آیا ہے۔وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمُ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَبِكَ هُمُ الفسقُونَ اس سے پہلے ہے تورات وانجیل کا ذکر اور سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے تفسیری نوٹ میں ایک جگہ مضمون بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس سے یہ نہیں لینا