خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 102
خطبات ناصر جلد نهم ۱۰۲ خطبه جمعه ۱۵ رمئی ۱۹۸۱ء اسی کا چلتا ہے اس پر میں ایک خطبہ دے چکا ہوں۔ان آیات میں اس بنیادی حقیقت کو بیان کرنے کے بعد بہت سی باتیں بیان کی گئی ہیں۔ان میں سے اس وقت چند باتوں کے متعلق میں کچھ کہوں گا۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بیان کیا ہے کہ حکم تو اللہ ہی کا چلے گا۔اگر میرے حکم نہ مانو گے تب بھی میرا چلے گا حکم۔یہاں یہ فرمایا کہ جس حصہ کا ئنات میں ہم آزادی ضمیر پاتے ہیں وہاں بھی حقیقت یہی ہے کہ نیک و بد کی آزادی تو ہے مگر عذاب و مغفرت کی دوقوسوں نے ان اعمال کو بھی ایک پورے دائرہ کے اندرگھیرا ہوا ہے جس سے ظاہر وعیاں ہے کہ قادر مطلق اور متصرف بالا رادہ اللہ ہی کی ذات ہے اور کوئی شے یا عمل اس کی حکومت سے باہر نہیں یعنی انسان کو آزادی بھی دی نیکی اور بدی کا اختیار بھی دیا ، اعمال سوء اور اعمالِ صالحہ کے بجالانے کی قوت اور طاقت بھی دی اور پھر جس طرح کا بھی وہ عمل کرے اس کے او پر حکم اللہ ہی کا چلے گا۔فیغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ (البقرة : ۲۸۵) ان آیات میں انسان کو کہا گیا وَ آنِ احْكُمُ بَيْنَهُم بِمَا اَنْزَلَ اللهُ (المآئدة: ۵۰) کہ انسانوں کے درمیان اللہ کی وحی کے مطابق احکام جاری کرو ( مخاطب ہیں یہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پھر مخاطب ہیں وہ جو آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہتے ہیں اور پھر ان کے ذریعے سے ہر انسان کے لئے یہ حکم ہے بنیادی طور پر ) کہ اللہ تعالیٰ نے جو احکام انسانی زندگی کے لئے نازل کئے ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو ایک کامل تعلیم انسان کے ہاتھ میں دے دی گئی۔بِمَا أَنْزَلَ اللهُ ) اللہ تعالیٰ نے جو نازل کیا اور جو احکام وحی کے ذریعہ اترے ان کے مطابق تم باہمی تعلقات کو استوار کیا کرو۔وَلَا تَتَّبِعُ أَهْوَاءَهُمْ اور خدا کی مرضی کو چھوڑ کے دوسروں کی خواہشات بد کے پیچھے نہ چلا کرو۔اور پھر یہاں ان آیات میں اشارہ ہے کہ اس بنیادی حکم کے علاوہ جو اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے اس پر عمل کرو۔تفصیلا حکم بتائے ہیں مثلاً انہی آیات میں کہا۔وَ إِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمُ بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (المائدة : ۴۳)۔اگر تو فیصلہ کرے تو ان کے درمیان انصاف