خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 93
خطبات ناصر جلد نهم ۹۳ خطبه جمعه ۸ / مئی ۱۹۸۱ء متقی اور مطہر قرار دینا صرف اللہ کا کام ہے خطبه جمعه فرموده ۸ رمئی ۱۹۸۱ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا :۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے میری طبیعت پہلے کی نسبت اچھی ہے۔اَلْحَمْدُ لِلهِ۔اسلام نے عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ بشارت دی ہے کہ وہ لوگ جو بے نفس زندگی گزاریں گے اور عاجزانہ راہوں کو اختیار کریں گے۔اللہ تعالیٰ ان کے لئے اپنے مقرب کے سامان پیدا کرے گا اور ان کی رفعتوں کے سامان پیدا کرے گا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کی عاجزی اور انکساری بعض دفعہ اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ انسان (اپنے نفس کو اس طرح ) خدا تعالیٰ کی عظمتوں کے عرفان کے نتیجہ میں اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانوں کی وجہ سے اپنے نفس کو مٹی میں ملا دیتا ہے۔جو ایسے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اٹھا کر ساتویں آسمان تک لے جاتا ہے۔رَفَعَهُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ لیکن یہ جو رفع ہے ساتویں آسمان تک یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہے لیکن جو مقام انسان کے لئے پسند کیا گیا ہے وہ مقام عجز ہے تو اضح اور انکسار کا مقام ہے۔وہ مقام ہر پہلو سے متکبرانہ راہوں کو نہ اختیار کرنے کا ہے۔تکبر کے متعلق بھی