خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 56
خطبات ناصر جلد نهم ۵۶ خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۸۱ء کہ وہ جو نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ( النور : ۳۶) ہے وہ ہمیں اور ہماری کوششوں کو پسند کرنے لگے۔قرآن کریم نے ان دو پہلوؤں پر ان آیات میں روشنی ڈالی ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ الشوریٰ میں فرماتا ہے۔وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُوا عَنِ السَّيَّاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ۔121 b وَ يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ وَ يَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ وَ الْكَفِرُونَ لَهُمْ عَذَابٌ شديد - (الشوری: ۲۶، ۲۷) یہ جو دو آیات ہیں ان میں سے پہلی آیت میں اس پہلی شق کا ذکر ہے۔اس میں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے بندے معصوم نہیں یعنی ان کی فطرت ایسی نہیں جو فرشتوں کی ہے کہ يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ( التحریم : ۷) جو حکم ہو وہ بجالائیں ان سے غلطی سرزد ہوتی ہے، وہ گناہ کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔فطرتِ انسانی ایسی بنائی ہے اللہ تعالیٰ نے کہ دونوں راہیں اس کے لئے کھولی ہیں لیکن جو اللہ کا بندہ ہو وہ غلطی کرنے کے بعد تو بہ کی راہوں کو اختیار کرتا ہے اور جب وہ خدا کے حضور عاجزانہ جھکتا اور اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہے اور اس سے مغفرت کا طلب گار ہوتا ہے اور اپنے خدا سے کہتا ہے کہ میں گناہ کر بیٹھا ہوں تیرے سوا مجھے کوئی بخشنے والا نہیں۔تیرے سوا مجھے کوئی پاک کرنے والا نہیں۔قرآن کریم نے ( دوسرا مضمون ہے اشارہ کر دوں یہ فرمایا ہے کہ تزکیہ کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے ) اس لئے میرے گناہ کو معاف کرے۔وَ يَعْفُوا عَنِ السَّيَاتِ ایک حصّہ سیئات کا اس طرح اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے لیکن جو گناہ اور سیئات ہیں اور جو غلطیاں انسان سے سرزد ہو جاتی ہیں ، خدا تعالیٰ کے احکام کو توڑنے کا وہ مرتکب ہوجاتا ہے۔یہ برائیاں جو ہیں انہیں دوطریقے سے دور کیا جا سکتا ہے قرآنِ عظیم کی تعلیم کے مطابق۔ایک یہ کہ إِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَاتِ (هود: ۱۱۵) اگر نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو تو ساری کی ساری برائیاں جو ہیں وہ دور ہو جاتی ہیں۔مگر کون انسان ہے جو یہ دعوی کر سکے کہ میری نیکیوں کا پلڑا ستیات سے بھاری ہے۔اس واسطے ایک حصہ تو نیکیوں کے نتیجہ میں جن کی اللہ تعالیٰ سے انسان تو فیق پاتا ہے۔اس طرح دور ہوجاتا ہے اور جو رہ جاتی ہیں باقی وہ توجہ کے نتیجہ میں وَ يَعُفُوا عَنِ السَّيَاتِ اللہ تعالیٰ ان سیئات کو دور کر دیتا ہے۔