خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 46
خطبات ناصر جلد نهم ۴۶ خطبه جمعه ۱۳ / مارچ ۱۹۸۱ء پتھر رکھ کر کوڑے مارے گئے تو اس کے دل سے اپنے رب کے لئے جو وفا کا جذبہ تھا اس جذبے سے یہ آواز نکلی احد احد کہ تم بت پرست غلطی پر ہو اللہ ایک ہی ہے۔اللہ ایک ہی ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قدر عشق اور پیار کہ آپ کو تو کیا بھولنا تھا آپ کے ن پا کو بھی نہیں بھولے۔قرآن کریم سے والہانہ محبت جس طرح چادر لپیٹ لی جاتی ہے اپنے جسم پر اس طرح اپنے وجود پر اس کی تعلیم کو، اس کے احکام کو لپیٹا۔انگریزی کا محاورہ ہے۔To Live Islam یعنی مسلمان ہو کے انہوں نے اپنی زندگی گزاری اور دینِ اسلام ان الدین عِندَ اللهِ الْإِسْلَامُ (ال عمران : ۲۰) دینِ اسلام سے اتنا پیار کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جس طرح ایک بکرا مجبور ہو کر قصائی کی چھری کے نیچے اپنی گردن رکھ دیتا ہے اسی طرح ایک مسلمان بغیر کسی مجبوری کے برضاور غبت اپنی گردن اسلام کے احکام کے نیچے رکھ دیتا ہے۔ایک ظاہری عیش والی زندگی پر موت طاری کرتا ہے اور ایک نئی روحانی زندگی حاصل کرتا ہے اپنے اللہ تعالیٰ سے۔اس قدر وفا اُمت مسلمہ کے مزاج میں ہمیں نظر آتی ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ ایسے نہیں تھے جنہوں نے بے وفائی کی۔میں یہ کہتا ہوں کہ اُمت مسلمہ نے بے وفائی کبھی نہیں کی۔ایک زندہ درخت کی علامت یہ ہے کہ اس پر آپ کو مری ہوئی ٹہنیاں ملتی ہیں۔ایک دفعہ جماعت میں فتنہ پیدا ہوا۔ایک غیر احمدی اچھے بڑے زمیندار میرے واقف تھے ان کو جب پتا لگا تو تعلق بھی تھا، تعصب بھی تھا میرے پاس آگئے۔کہنے لگے باتیں کر رہے تھے کالج کے باہر کے صحن میں کہ یہ کیا فتنہ شروع ہوا ہے۔جو قریب ترین درخت تھا میں اس کے پاس ان کو لے گیا۔میں نے کہا دیکھو اس درخت پر مری ہوئی ٹہنیاں آپ کو نظر آتی ہیں۔کہتے ہیں ہاں۔سامنے نظر کے ایک دو ٹہنیاں مری ہوئی تھیں۔میں نے کہا یہ مری ہوئی ٹہنیاں اس درخت کی زندگی کی دلیل ہیں، اس درخت کے مردہ ہونے کی دلیل نہیں ہیں۔آدمی بڑا ہشیار تھا۔وہ کہتا مجھے مسئلہ سمجھ آ گیا۔میں یہ کہتا ہوں کہ امت مسلمہ نے کبھی بے وفائی نہیں کی۔ہر زمانہ میں اللہ تعالی کے ایسے مطہر بندے پیدا ہوئے جن کی تربیت اللہ تعالیٰ کے ( کیا میں کہوں ) دستِ شفا نے کی۔جن کو