خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 491 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 491

خطبات ناصر جلد نهم ہے مجنس نہ کرنا۔۴۹۱ خطبہ جمعہ ۷ رمئی ۱۹۸۲ء اللہ تعالیٰ نے فرما یا لا تَجَسَّسُوا (الحجرات : ۱۳) عیب جوئی نہیں کرنا ، دوسروں کے عیب تلاش نہیں کرنا۔اپنی فکر کرو۔اپنی زندگی کا محاسبہ کرتے رہو۔محاسبہ تو ہر وقت خدا تعالیٰ سے عشق رکھنے والا انسان کرتا رہتا ہے کہ اگر کوئی چھوٹی یا بڑی غلطی سرزد ہو جائے ، ہو چکی ہو، تو تو بہ کرے اور خدا تعالیٰ سے معافی مانگے۔توبہ کی بنیاد محاسبہ پر ہی ہے۔اگر کسی نے محاسبہ نہیں کیا تو حقیقی تو بہ بھی اس کے نصیب میں نہیں ہو سکتی دوسروں میں عیب تلاش کرنا ، اپنا وقت ضائع کرنا اور خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔اس حد تک اس پر زوردیا کہ فرمایا جب ہم کہتے ہیں لا تجسسوا تو ہماری مراد یہ ہے کہ جب کوئی شخص ایمان کے دعوئی کے ساتھ ( زبانِ قال سے یا زبان حال سے ) تمہیں سلام کہے ( کوئی شخص سفر کر رہا ہے، پیدل چل رہا ہے، رستے میں ایک شخص ملا اس نے سلام کیا ) لَا تَقُولُوا لِمَنْ الْقَى إِلَيْكُمُ السَّلمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا (النساء : ۹۵) تمہیں تجس کرنے کی ضرورت نہیں۔اس نے ایمان کا اظہار کرتے ہوئے سلام کیا ہے۔تم اسے مومن سمجھو جس کا نتیجہ تب نکلتا، اگر انسان عیوب کی سزا دینے کا اختیار رکھتا اور اس کی طاقت بھی ہوتی۔تو جب نہ طاقت ہے نہ اختیار، تو بے نتیجہ ہے مجنس۔جسے طاقت حاصل ہے اور جس کے اختیار میں ہے سزا دینا یا معاف کر دینا ، وہ تو اللہ علام الغیوب ہے، اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔جب تمہاری طاقت میں نہیں ، جب تمہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسا اختیار نہیں دیا گیا تو تمہارا مجنس کرنا بے مقصد، بے نتیجہ، اپنے وقت کا ضیاع اور دنیا میں فساد اور بدامنی اور معاشرے میں الجھن پیدا کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔اگر غور کیا جائے تو نہ کرنے والی باتیں بالواسطہ یا بلا واسطہ لغو سے ہی تعلق رکھتی ہیں۔اس کی تفصیل میں انشاء اللہ اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو میں کسی اور خطبے میں کچھ کہوں گا۔پچھلا ہفتہ میرا بیماری میں گزرا ہے۔اتنی شدید قسم کی پیچش اور اسہال اور ہمارے طبی محاورہ ہے آؤں ، آئی۔سمجھ ہی نہیں آتا تھا کس طرح بھر گیا پیٹ آؤں سے ، اس قسم کی سوزش انتڑیوں میں تھی اور اس کے نتیجے میں دو وجہ سے ضعف پیدا ہوتا ہے۔ایک بیماری ضعف پیدا کرتی ہے،