خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 473 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 473

خطبات ناصر جلد نهم ۴۷۳ خطبه جمعه ۱/۲۳ پریل ۱۹۸۲ء ذروں اور اس بوٹی کی، اس میں سے پانی رہتا ہے اور اگر جس پتھر پر یہ جمی ہو، اس میں تیر ہو تو یہ پانی اس تیر میں نیچے گرتا ہے ، گرتا رہتا ہے اور کئی سو سال کے بعد وہ ست سلاجیت کی شکل اختیار کرتی ہے جو دوائی ہے، جس میں بڑی طاقت ہے، جو بہت سے فوائد اپنے اندر انسان کے لئے رکھتی ہے، جس میں اتنی گرمی ہے کہ سردیوں میں وہ منجمد پتھر کی طرح ہوتی ہے۔گرمی میں ایک دن ایک دفعہ میرے پاس پڑی ہوئی تھی۔خیال نہیں کیا، تو ٹین کے جس ڈبے میں تھی (کوئی ایک چوتھائی ست سلاجیت تھی اس میں ) اچانک نظر پڑی تو ابل ابل کے وہ اپنے کناروں سے باہر گر رہی تھی۔اتنی گرمی اس کے اندر اس گرمی کے نتیجے میں پیدا ہو چکی تھی۔ایک دفعہ کالج کے لڑکوں نے اپنے نوکر سے مذاق کیا۔( کاغان وادی میں پھر رہے تھے) اسے بہت سی ست سلاجیت کھلا دی۔برفانی ہواؤں میں اس نے رات کے دو بجے کھڑ کی کھول کے، اپنی قمیص اتار کے جسم کو باہر کیا اور کہا مجھے تو آگ لگی ہوئی ہے میرے جسم کے اندر۔تو انسان کے فائدے کے لئے یہ چیز پیدا ہوئی اور سینکڑوں سال میں نشو ونما کے بعد اسے اس کی اپنی شکل ملی جس کے نتیجے میں انسان کو فائدہ پہنچتا ہے۔تَخَلَقُوا بِأَخْلَاقِ الله میں صفات باری کی معرفت کے بعد پھر حسن سلوک انسان کے ساتھ آجاتا ہے۔رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلّ شَيْءٍ (الاعراف: ۱۵۷) جس طرح خدا تعالیٰ کی رحمت نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے پیارے بندے جو ہیں ان کی رحمت نے بھی اس کا ئنات کی ہر شے کا احاطہ کیا ہوتا ہے۔کائنات کی ہر شے کو تو اس وقت چھوڑیں، ہم صرف انسان کو لیتے ہیں۔انسان سے ان کا سلوک اتنے پیار کا اور خیر خواہی کا ہوتا ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔اسلام یہ ہے۔حسن اخلاق اس کے علاوہ اسلام ہے ہی نہیں۔اس دائرے سے باہر اسلام نہیں نظر آتا ، جہاں تک انسان کا انسان سے تعلق ہے۔جہاں تک انسان کا خدا سے تعلق ہے اس وقت میر امضمون نہیں وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی جو صد ہے جس کو ہماری عبادت کی احتیاج نہیں۔تو حقوق کی ادائیگی پھر انسان کی طرف ہی لوٹتی ہے لیکن میں نے بتایا وہ میرا مضمون نہیں۔اس وقت میں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ اچھے اخلاق، وہ اخلاق جو ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی