خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 439 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 439

خطبات ناصر جلد نهم ۴۳۹ خطبه جمعه ۱۹ / مارچ ۱۹۸۲ء ساتھ اور خدا تعالیٰ کی محبت میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی حفاظت میں یہاں آئے ہیں ان کے مخالفانہ منصوبوں کو نا کام کرنے کے لئے ، اس لئے ہمیں کسی مادی دنیوی سہارے کی ضرورت نہیں۔اور پھر چودہ سو سال اور پھر پندرہویں صدی کا جو کچھ حصہ گزرا ہے جنہوں نے یہ سمجھا اور شناخت کیا اور یہ معرفت حاصل کی کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کو پورا کرتا ہے، پورا کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے اور اس کا جو نقدس ہے جو اس کی طہارت ہے سُبحَانَ اللہ میں جو کیفیت اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتائی ہے اپنے وجود کی وہ تقاضا کرتی ہے کہ جو وہ وعدہ کرے وہ پورا کرے۔ہاں اس نے شرط لگائی ہے بندوں پر، ایسا کرو گے میں وعدہ پورا کروں گا۔ایسا نہیں کرو گے تمہارے اندر استحقاق نہیں رہے گا کہ میں وعدہ پورا کروں۔اس کی ذمہ داری بندے پر ہے خدا پر نہیں ہے اور خوف کا مقام ہے۔پھر سورۃ یوسف کی اکیالیسویں آیت میں ہے۔فیصلہ کرنا اللہ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں۔(بڑے عجیب اعلان ہوئے ہوئے ہیں قرآن کریم میں ) اِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ اور اس نے حکم دیا ہے جس کے اختیار میں فیصلہ کرنا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔یہی درست مذہب ہے۔خالص توحید۔اعلان کرنا آسان ہے۔عمل کرنا مشکل بھی ہے، آسان بھی ہے۔عمل کر کے جو نعماء ملتی ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور فضل نازل ہوتے ہیں ان کا شمار نہیں۔یہ توفیق کہ انسان کا رواں رواں یہ پکا رہا ہو مولا بس۔اللہ کے سوا ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں۔جو ایسا نہیں سمجھتے ، کچھ بھروسہ اللہ تعالیٰ پر رکھتے ہیں کچھ بھروسہ غیر اللہ پر رکھتے ہیں لا یعلمون کے گروہ میں شامل ہو جاتے ہیں یعنی وہ لوگ جواب سے، روحانی پاکیزگی سے ، مومنانہ فراست سے محروم کئے گئے ہیں۔پھر انتیسویں سورۃ کی پینسٹھویں آیت میں یہ ہے:۔یہ ورلی زندگی صرف ایک غفلت اور کھیل کا سامان ہے اور اُخروی زندگی کا گھر ہی در حقیقت اصلی زندگی کا گھر کہلا سکتا ہے۔