خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 437
خطبات ناصر جلد نہم ۴۳۷ خطبہ جمعہ ۱۹ / مارچ ۱۹۸۲ء تو آمَنْ هُوَ قَانِتَ أَنَاءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَقَابِما اس کی تفسیر لمبی میں میں نہیں جاؤں گا اس وقت۔لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت سے یہ بتایا کہ جو راتوں کو اٹھتے اور اپنی فرمانبرداری کا اعلان کرتے ہیں خدا کے سامنے چھپ کے سَاجِدًا وَ قابِما سجدہ کرتے ہوئے اور قیام میں۔اس کی بڑی لمبی چوڑی تفسیریں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی کی ہیں ،حضرت مصلح موعود نے بھی کی ہے بہر حال یہ کیفیت قَانِتٌ آنَاءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَ قابِما یہ پیدا نہیں ہو سکتی جب تک کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ اس زندگی کے بعد ایک اور زندگی ، جہاں جزا سزا کا فیصلہ ہوگا۔جب تک انسان یہ نہ سمجھے کہ میری مخلصانہ کوشش اور مقبول اعمال کے نتیجہ میں اس قدر اللہ تعالیٰ رحمتیں نازل کرتا ہے کہ ان کا شمار نہیں اس وقت تک وہ راتوں کو اٹھ کے اپنی عاجزی کا متضرعانہ دعاؤں کا راستہ اختیار نہیں کرتا۔تو اعلان یہ کیا گیا کہ لَا يَسْتَوِی الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ جو عالم ہیں وہ جاہل کے برابر نہیں ہو سکتے اور مراد یہ ہے کہ ایسے عالم جو ” اولوالالباب“ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے الْعَقْلُ الخَالِص دی ہے۔جس عقل میں کوئی عیب اور ناپاکی نہیں اور جو مابہ الامتیاز پیدا کرتی ہے اس عقل کے درمیان جو خدا تعالیٰ کے نور اور حسن سے بھر پور ہے اور اُس عقل کے درمیان جو اندھیروں میں Grope ( گروپ) کر رہی ہے، ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔(صاحب) مفردات راغب معنی بھی کرتے ہیں الفاظ قرآنی کا اور بڑے چھوٹے چھوٹے فقروں میں تفسیر بھی بتا جاتے ہیں۔انہوں نے اس جگہ یہ بھی لکھا ؤ لهذا ( کہ جو میں نے معنی کئے ہیں صاحب مفردات راغب نے که اللُّبُ الْعَقْلُ الْخَالِصُ اور مَا زَكَى مِنَ الْعَقْلِ ) اسی لئے اللہ تعالیٰ نے عَلَّقَ اللهُ تَعَالَى الأحكام الَّتِي لَا يُدْرِكُهَا إِلَّا الْعُقُولُ الزَّكِيَّةُ بِأُولِي الْأَلْبَابِ ان احکام کا اور ہدایات کا تعلق قائم کیا ہے ان عقول کے ساتھ جو پاک ہیں اور اولوا الالباب کے پاس ہیں وہ۔چند مثالیں :۔سورۃ الانعام کی آیت نمبر ۳۸ میں ہے۔اللہ تعالیٰ کو آیات کے نازل کرنے پر قادر نہ سمجھنا یعنی یہ سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ اب آیات