خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 429
خطبات ناصر جلد نہم ۴۲۹ خطبه جمعه ۱۲ / مارچ ۱۹۸۲ء اس کا تعلق۔لیکن سب سے زیادہ ذہن اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کیا۔بہر حال رحمانیت کا تعلق جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فیضانِ عام فرمایا ، تمام حیوانات سے ہے کیونکہ اس کا تعلق ذہنی صلاحیتوں سے ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ انسان کو خدا تعالیٰ کی رحمانیت سے سب سے زیادہ حصہ ملا۔ہر چیز اس کی کامیابی کے لئے قربان ہو رہی ہے۔اس واسطے انسان کو ایسا ذہن ملا کہ اس کائنات کی ہر چیز سے جو اس کی خدمت پر مقرر کی گئی ہے فائدہ اٹھا سکے اور کام لے سکے۔رحمانیت کا تعلق ذہنی صلاحیتوں سے ہے۔رحیمیت کا تعلق اخلاقی استعدادوں سے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسے فیض خاص کہتے ہیں اور اس کا تعلق صرف انسان سے ہے۔صرف انسان ہے جو با اخلاق یا بد اخلاق ہے۔جب مثلاً شکاری پر ریچھ حملہ کرتا ہے (ایسے علاقوں میں شکاری جاتے ہیں جہاں ریچھ رہتے ہیں ، ان کے شکار کے لئے ) تو کبھی انسان ریچھ کا شکار کر لیتا ہے کبھی ریچھ انسان کا شکار کر لیتا ہے۔تو جب ریچھ حملہ کرتا ہے انسان پر تو کوئی دنیا کا انسان اسے بداخلاق نہیں کہتا۔اسے خونخوار جانور تو کہتا ہے لیکن اخلاق کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔وہ اس کی فطرت جو ہے، رحمانیت نے جو اس کو ایک دیا ہے کہ جہاں خطرہ ہے اس کا مقابلہ کر اپنی زندگی بچانے کے لئے ، اس لئے وہ حملہ کرتا ہے لیکن اس کو ہم اچھے خلق والا یا بداخلاق نہیں کہہ سکتے۔جو مرغی آپ ذبح کر کے کھا جاتے ہیں اسے نہیں کہہ سکتے کہ بڑی اچھی ، اخلاق والی دیکھو! انسان پر قربان ہوگئی۔مرغی کا اخلاق کے ساتھ کیا تعلق؟ اخلاق کا تعلق صرف انسان سے ہے اور خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت سے ہے اس لئے کہ اب یہاں قائم رہنے والی روح کا ایک بنیادی ہلکا سا تعلق ہو گیا پیدا۔یعنی ایک ایسا فعل جس کے نتیجہ میں استحقاق پیدا ہو جاتا ہے خدا تعالیٰ کے پیار کے حصول کا۔ملتا نہیں لیکن حقدار بن جاتا ہے یعنی اخلاقی نشوونما، روحانی نشوونما کے لئے راہ ہموار کرتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ رحیمیت کے معنی یہ ہیں کہ رحمن خدا لوگوں کی دعا اور تضرع اور اعمالِ صالحہ کو قبول فرما کر آفات اور بلاؤں اور تجزیہ اعمال سے ان کو محفوظ رکھتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں صرف انسان ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے نطق عطا کیا۔جس طرح میں اس وقت بول رہا ہوں اور جو بھی میرے خیالات ہیں وہ بیان کے ذریعے آپ تک پہنچا رہا ہوں ، اس