خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 400 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 400

خطبات ناصر جلد نهم ۴۰۰ خطبه جمعه ۵ رفروری ۱۹۸۲ء ابھی ایک حادثہ گزرا ، سخت ہے وہ لیکن جو تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ انسان کا ہوتا ہے، ایسی ہزار قربانیاں بھی دینی پڑیں تو اس تعلق کو تو قطع نہیں کیا جا سکتا نہ وہ تعلق قطع ہوسکتا ہے۔پھر وہ خوشی کے سامان بھی پیدا کر دیتا ہے اور پچھلی پیر ( یکم فروری ) کو اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی ایک خوشی کا سامان پیدا کر دیا۔ایک پیارا سالڑ کا ہمیں عطا کیا۔جس کا نام حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ رکھ گئے تھے۔ابھی لقمان چھوٹا تھا، کم عمر اور اس کا بھائی فرید قرآن کریم پڑھ رہا تھا۔مکرم مولوی ارجمند خاں صاحب مرحوم سے۔تو یہ آیت اس وقت آگئی پڑھتے ہوئے اِذْ قَالَ لقُمنُ لِابْنِهِ (لقمن : ۱۴) لقمان بہت چھوٹا تھا۔تو یہ غصے میں آ کے کہنے لگا یہ میرا نام کیوں لے رہے ہیں مجھے چڑانے کو؟ مولوی صاحب نے کہا میاں ! یہ تمہارا نام نہیں لے رہا، یہ قرآن کریم کی آیت پڑھ رہا ہے۔تو لقمان اپنے بچپنے میں کہنے لگا کہ اس وقت میں کوئی تھا؟ تو حضرت صاحب رضی اللہ عنہ کو جب لطیفہ سنا یا ہم نے تو بہت ہنسے اور پھر نام رکھنے شروع کئے اس کے بیٹوں کے، چھ ،سات نام رکھ دیئے ، رضوان ، عثمان ، عمران ، عدنان ، سلمان ، عرفان۔وہ نام نوٹ کئے ہوئے تھے تو رضوان تو جو پہلا اس کا لڑکا تھا، اس کا نام رکھا گیا۔دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کی پریشانیوں کو بھی دور کرے، وہ پریشانیاں بھی جن کا اسے احساس ہے اور وہ بھی جن کا اس عمر میں اسے احساس نہیں پیدا ہو سکتا۔اور جب اس دوسرے بیٹے کے نام رکھنے کا سوال پیدا ہوا، مجھے خیال آیا کہ نام تو بہت سارے رکھے ہیں اگر ان میں سے خود میں انتخاب کروں۔پھر میرا بھی حصہ بیچ میں آجائے گا نا انتخاب میں۔تو میں نے کہا کہ اس طرح نہیں نام رکھتے بلکہ قرعہ ڈالتے ہیں۔تو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جو نام رکھے تھے، ایک تو رکھا جا چکا تھا رضوان، باقی جو تھے ان کو پرچیوں پہ لکھ کے قرعہ نکالا تو ”عثمان “ نکلا تو عثمان نام رکھا گیا۔میں نے اس سے پہلے ذکر نہیں کیا تھا کہ میری خواہش ہے کہ میں عثمان رکھوں یعنی ان ناموں میں سے عثمان کا انتخاب کروں۔میں نے باپ سے پوچھا تھا کیا نام رکھنا ہے؟ تو لقمان کہنے لگا جو آپ کی مرضی۔تو میں نے سوچا کہ جو آپ کی