خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 393
خطبات ناصر جلد نهم ۳۹۳ خطبہ جمعہ ۲۲ جنوری ۱۹۸۲ء اجتماعی زندگی اور بقا کے لئے ضروری ہے کہ جانے والوں کی قائمقام نسل پیدا ہو خطبه جمعه فرموده ۲۲ جنوری ۱۹۸۲ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیات تلاوت فرمائیں:۔تَبْرَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَ هُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ - وَالَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيوة لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُم اَحْسَنُ عَمَلًا - (الملك : ٢، ٣) اور پھر فرمایا:۔انسانی زندگی میں زندگی ، موت اور ابدی زندگی کا سلسلہ اللہ تعالیٰ نے جاری کیا اس کا ایک تعلق تو افراد سے ہے اور ایک بڑا ہی اہم تعلق جماعت سے ہے یا اُمت مسلمہ سے ہے۔اُمتِ مسلمہ نے اپنی چودہ سو سالہ زندگی میں اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا تھا کہ اجتماعی زندگی ، اُمت مسلمہ کی زندگی اور بقاء کے لئے یہ ضروری ہے کہ جانے والوں کے بعد ان کی قائم مقام نسل پیدا ہوتی رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ زمانہ جسے فیج اعوج کا زمانہ کہا جاتا ہے جس زمانہ میں بظاہر اسلام انتہائی کمزوری اور تنزل میں ہمیں نظر آتا ہے اس زمانہ میں بھی ٹھاٹھیں مارتے دریا کی طرح خدا تعالیٰ کے مقربین کا گروہ ہمیں نظر آتا ہے۔امت مسلمہ نے کبھی یہ نعرہ نہیں لگایا کہ خالد مر گئے اور ان کے بعد کوئی