خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 364
خطبات ناصر جلد نہم ۳۶۴ خطبه جمعه ۱۱ دسمبر ۱۹۸۱ء خرید سکتا۔کوئی ایک ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں ساری کتابیں ہوں خریدنے کے لئے۔وہ جا کے چٹ دے کہ یہ مجھے کتا ہیں چاہئیں اور دس منٹ میں وہ لپیٹ کے ، وہ اس کو دے دیں۔دوسرے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آج کے بعد میں یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ آپ جماعت کے اخلاص کو Exploit (ایکسپلائٹ ) کریں اور کتابوں کو بلیک مارکیٹ کریں۔وہ جو چھاپنے والے نے اس کی قیمت رکھی ہے اس سے ایک پیسہ زیادہ کوئی شخص بھی نہیں لے گا۔یہ میری خواہش ہے، یہ میری مرضی ہے، یہ میری ہدایت ہے، یہ میرا حکم ہے، تو یہ جو چھاپنے والے ہیں وہ اس کے مطابق الفضل جو ہے یہ اتنا حصہ جو ہے یہ شائع کر دے جلدی کل ہی آ جائے پرسوں ، ترسوں جب سنسر ہو جائے میرا یہ مضمون۔اور ادارۃ المصنفین ، کی وہاں ساری کتابیں مل جائیں گی جو اس وقت' Available‘ ہیں۔الشرکۃ الاسلامیہ کی ساری کتابیں مل جائیں گی جو اس وقت Available‘ ہیں وہ تو ساری سنسر ہوئی ہوئی ہیں۔اور مینٹل اینڈ ریلیجس پبلیشنگ کارپوریشن کی ، نظارت اشاعت، دوسری یعنی جماعت کے جتنے ادارے ہیں یا تنظیمیں ہیں، ان کی تو ہوں گی ہی لیکن جو افراد بھی بعض شائع کرتے ہیں وہ اگر جب مجھے بھی لکھیں دعا کے لئے تو ساتھ یہ تصدیق بھجوادیں کہ سنسر بھی ہوئی ہوئی ہے اور اصلاح وارشاد نے بھی اس کو پاس کیا ہے۔پچھلے سال میرا خیال ہے مجھے ایک کتاب کے متعلق شبہ پڑا تھا۔تو ہمارے جیسے اونچے اخلاق کی جماعت جس نے دنیا کو اخلاق سکھانے ہیں یہ سجتا نہیں کہ ہم ایسی حرکت کریں۔ہماری ہر کتاب جو چھپتی ہے جو جماعت کی چھپتی ہے وہ تو ایسا ہی ہے کہ حکومت سے سنسر کرواتے ہیں۔ان کی مرضی ، بعض دفعہ ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ کیوں کاٹتے ہیں۔بہر حال کاٹ دیتے ہیں۔حالات تو بدلتے رہیں گے۔ریکارڈ ہوا ہوا ہے دنیا میں ساری۔تو فکر کی کوئی بات نہیں، نہ غصے کی کوئی بات ہے۔ان کے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہر حکومت کو دنیا کے ہر ملک میں یہ تو فیق عطا کرے کہ وہ اپنے شہریوں کے سارے حقوق بلا تمیز ادا کرنے والے ہوں۔