خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 363
خطبات ناصر جلد نهم ۳۶۳ خطبہ جمعہ ۱۱/ دسمبر ۱۹۸۱ء حصہ انشاء اللہ استعمال کریں گے۔احمد یہ بک ڈپو کا نام ہم نے رکھا ہے مَخَزَنُ الْكُتُبِ الْعِلْمِيَّةِ “ اور یہ تو اس کا یہ ہے نام نا، کس غرض کے لئے ہے۔اس واسطے مجھے یہ خیال آیا کہ ہم اردو میں احمد یہ بک ڈپو جو پرانا نام ہے وہ بھی رکھیں گے۔یعنی اصل نام وہ ہے مَخَزَنُ الكُتُبِ العِلْمِيَّةِ لیکن لکھا جائے گا' احمد یہ بک ڈپو جو اس قسم کی دکان کو پشتو زبان میں کہا جاتا ہے وہ پشتو میں لکھا جائے گا۔جو بلوچی زبان میں کہا جاتا ہے وہ بلوچی زبان میں لکھا جائے گا۔جو سندھی زبان میں کہا جاتا ہے وہ سندھی زبان میں لکھا جائے گا۔جو جرمن زبان میں کہا جاتا ہے وہ جرمن زبان میں لکھا جائے گا اور جو انگریزی میں فرانسیسی میں، سپینش میں، فرینچ (اگر میں نے نہیں کہا تو فریج) میں اور سیکنڈے نیوین Countries ( کنٹریز) کی زبانوں میں اور یوگوسلاوین میں یہ وفود اور سواحیلی اور مغربی افریقہ کی جو عام بولی جانے والی زبانیں ہیں ان میں بھی تختیاں نام کی رکھی جائیں گی تاکہ جو دوست اردو اور دوسری زبانیں نہیں سمجھتے وہ وہاں سے گزریں تو ان کی نظر پڑے اور وہ سمجھ لیں کہ یہاں ہے کیا؟ اور ہر وہ کتاب جو پہلے چھپی ہو یا تازہ چھپے، جس کی اجازت مصنف نے یا مدوّن نے اصلاح وارشاد سے لی ہو اور قانونِ وقت کے مطابق سنسر اسے کروایا ہو، وہ بک ڈپو میں ہونی چاہیے اور یہ اس وقت میں ہدایت کر رہا ہوں کہ کوئی کتاب ربوہ میں نہیں بکے گی ایسی جس کو اصلاح وارشاد نے بھی پاس کیا ہے اور حکومت وقت نے بھی سنسر کر کے اس کو اجازت دی ہے چھاپنے کی ، جب تک کہ اس مَخْزَنُ الْكُتُبِ الْعِلْمِيَّةِ “ کے مطالبہ کے مطابق جو تعداد ہے وہ مانگ رہے ہیں اس کے مطابق ان کو نہ دے دی جائے۔پہلے تو میرا خیال تھا، میں کہہ دوں اور کوئی کہیں سے خریدے ہی نہ، لیکن جب مشورہ کیا اور غور کیا تو انہوں نے کہا کہ خدام الاحمدیہ والے اپنے چھوٹے چھوٹے رسالوں کے لئے ہیں ، ہیں آدمی رکھتے ہیں اتنا Rush (رش) ہوتا ہے۔وہاں نہیں چلے گا یہ کہا ٹھیک ہے۔کسی کو دکھ نہیں دینا۔لیکن جو شخص مثلاً اس کے پاس صرف آدھا گھنٹہ ہے کتابیں خریدنے کا ، (باہر سے آیا ہوا ہے غیر ملک سے ) وہ ہیں جگہ ہیں دکانوں پہ جا کے اپنے مطلب کی کتابیں نہیں