خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 361 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 361

خطبات ناصر جلد نهم ۳۶۱ خطبہ جمعہ ۱۱؍ دسمبر ۱۹۸۱ء کائنات کا خالق اور مالک ہے اور تمام خزانوں کی چابیاں اس کے ہاتھ میں ہیں اس کی راہ میں خرچ کرنے سے اسے گھبرانا نہیں چاہیے۔ہم نے وہاں چھوٹا سا ایک بک ڈپو بنایا۔سہولت تھی بڑی، جو قادیان میں آتے تھے۔ساری دنیا میں احمدی کم تھے۔زیادہ تر ہندوستان سے آتے تھے۔زیادہ تر جلسہ سالانہ پر آتے تھے۔انہیں کوئی تکلیف نہیں ہوتی تھی ادھر اُدھر دکانوں پر جانے کی۔وہاں وہ بک ڈپو میں جاتے تھے اور ہر کتاب جو موجود ہو وہ ان کو ایک جگہ سے مل جاتی تھی اور بلیک مارکیٹ میں نہیں ملتی تھی۔جو اس کی اصل قیمت تھی اس پر وہ مل جاتی تھی کتاب۔پھر لمبا عرصہ گزرا ہماری ہجرت کے زمانے کا۔کچھ عرصہ لاہور میں رہے۔پھر اس بے آب و گیاہ زمین پر رہے۔یہاں جب آئے تو خیموں میں رہے پہلے۔بہت سارے جو بچے ہیں وہ خیموں کے بعد کی پیدائش ہیں ، ان کو پتہ ہی نہیں۔خیموں میں بھی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ساری جماعت جو یہاں آئی وہ خیمہ زن خانہ بدوشوں کی طرح تھے۔پھر وہ کچے مکان بنائے گئے پھر ان میں رہے۔پھر اللہ تعالیٰ آہستہ آہستہ وہ آزمائش کی سختی کو ، امتحان کی اذیت کو کم کرتا چلا گیا برداشت کے اندر۔پھر اپنی رحمت کے سامان پیدا کئے۔پھر مجھے یاد ہے کہ جس وقت یہ مکان یہاں بنے جن میں میں بھی رہا ہوں قریباً سولہ سال اپنی خلافت کے، یہ اڑھائی روپے مربع فٹ خرچ کے اوپر بنائے گئے تھے اور اب ہماری رہائش کے وقت میں وہ اپنی عمر پوری کر چکے تھے۔بعض دفعہ چھت پر سے اینٹ نیچے گر جاتی تھی لیکن ہم اس میں رہ رہے تھے اور خدا تعالیٰ کی حمد کے ترانے گارہے تھے۔اب وہ دفتر بھی۔اتنا سا دفتر ، کتنی ضرورت تھی۔اب اللہ کا فضل ہے کہ جمعرات کو ملاقاتی بعض دفعہ بارہ تیرہ سو ہو جاتا ہے۔بڑی مشکل پرانے دفتر میں، مجھے شرم بھی آتی۔مہمان آتا ہے۔اکرام ضیف کا حکم ہے ہمیں۔ایک وقت میں میں نے محسوس کیا کہ ان کو ٹھنڈا پانی گرمیوں میں پلانے کا جماعت کی طرف سے کوئی انتظام نہیں۔تو میں نے سوچا کہ میرے اوپر خدا نے ذمہ داریاں ساری ڈالی ہیں میں جماعت کو تو کچھ نہیں کہہ سکتا اپنے آپ کو مجھے ملامت کرنا چاہیے۔میں نے اپنے انتظام کے مطابق ( آج میں پہلی دفعہ شاید آپ کو بتا رہا ہوں ) ان کی چائے کا سردیوں