خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 350
خطبات ناصر جلد نهم ۳۵۰ خطبه جمعه ۴/دسمبر ۱۹۸۱ء اُن کے مجھ پر۔پھر ایک وقت آیا کہ نئی ذمہ داریاں پڑ گئیں۔ان نئی ذمہ داریوں کے علاوہ بھی تو انسان کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں مثلاً کھانا کھانا۔مثلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حقا اپنے نفس کے حقوق ادا کرنے ہیں۔تو اگر بیوی ساتھ نہ دے تو اوقات بٹ جائیں دوحصوں میں۔ایک حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں اور ایک اپنے نفس کے حقوق کی ادا ئیگی میں۔بغیر بات کئے ساری ذمہ داریاں جو میرے نفس کی تھیں وہ آپ سنبھال لیں اس حد تک کہ بعض Vitamins‘ وغیرہ ہم نے کچھ عرصہ سے شروع کی ہوئی تھیں خود نکال کے دیتی تھیں کبھی میں خود نکالنے کی کوشش کروں تو ناراض ہو جاتی تھیں کہ یہ میرا کام ہے کیوں کیا آپ نے۔مطلب یہ تھا کہ یہ دو منٹ بھی اس کام پر خرچ کیوں کئے جو دوسرے اہم جماعتی کام ہیں اُن پر خرچ کریں اور مجھے ہر قسم کی ذاتی فکروں سے آزاد کر کے سارے اوقات کو آپ احباب کی فکروں میں لگانے کے لئے موقع میسر کر دیا اور اس وجہ سے میں یہ چھوٹی چھوٹی باتیں بیان کر رہا ہوں کہ اُن کا یہ حق ہے کہ ہم اُن کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضل اور رحمتیں ان پر نازل ہوں۔اللہ تعالیٰ جتنا زیادہ سے زیادہ پیار دے سکتا ہے ، وہ اُن کو دے۔پھر خلافت کی ذمہ داریوں میں آئے ۷۴ء کے حالات یعنی نہ مجھے ہوش تھی کہ دن کس وقت چڑھتا ہے اور کس وقت غروب ہوتا ہے اور رات کب آتی ہے اور کب جاتی ہے نہ اُن کو۔لگی ہوئی تھیں میرے ساتھ جماعت کی خدمت کے لئے سارا دن یہ کام کرنے پھر پڑھی لکھی کافی تھیں۔منشی فاضل فارسی میں کیا ہوا تھا جو سب سے بڑا فارسی کا امتحان ہے۔اردو کی ڈگری تھی پاس میٹرک کیا ہوا تھا، خدا داد فراست تھی، علم سے شغف تھا۔میں سمجھتا ہوں تاثر ہے میرا کہ میری حفاظت کے لئے اپنا یہ طریق بنالیا تھا کہ جب تک میں نہ سو جاؤں رات کو آپ نہیں سوتی تھیں پڑھتی رہتی تھیں کتاب اور جب میں غسل خانے جا کے واپس آ کے اپنی طرف کی بتی بجھا کے لیٹ جاتا تھا پھر دومنٹ کے بعد لیٹ جاتی تھیں بنتی بجھا کے۔تو ۷۴ ء میں عورتوں کو تسلی دلانی ، ان کے غم میں شریک ہونا اور بالکل بے نفس تھیں۔پھر مجھے آج پتہ لگا کہ ۱۱۷ کی وصیت کی ہوئی تھی۔ممکن ہے ۳۵۔۱۹۳۴ء میں کسی وقت سامنے آئی