خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 346
خطبات ناصر جلد نہم ۳۴۶ خطبه جمعه ۴/دسمبر ۱۹۸۱ء کہ میں اپنی تعلیم کو مکمل کروں جس تعلیم نے آئندہ چل کر مجھ سے بہت سی خدمات بھی لینی تھیں۔ہماری شادی کے متعلق حضرت اماں جان نور اللہ مرقدھا کو بہت سی بشارتیں ملی تھیں۔اُس کے نتیجہ میں یہ شادی ہوئی تھی۔یہ رشتہ آپ نے کروایا تھا الہی بشارت کے مطابق۔اور جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ انتخاب اللہ تعالیٰ نے بعض اغراض کے مد نظر خود کیا اور ایک ایسی ساتھی میرے لئے عطا کی جو میری زندگی کے مختلف ادوار میں میرے بوجھ بانٹنے کی اہلیت بھی رکھتی تھی اور ارادہ اور عزم بھی رکھتی تھی۔یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے جس پر جتنا بھی میں شکر کروں کم ہے۔اور چونکہ میں اس وقت مختصراً بعض باتیں بیان کر کے یہ امید رکھوں گا کہ ہم سب بھی اور آپ بھی ، اس جانے والی روح کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں کہ وہ خطاؤں کو معاف کرے اور اپنی رحمتوں سے انہیں نوازے۔رخصتانہ کے ایک مہینہ کے بعد ہنستے ہوئے چہرے کے ساتھ رُخصت کر دینا اور پھر قریباً ساڑھے تین سال تک ( بیچ میں میں آیا بھی دو ایک ماہ کے لئے ) ہماری جدائی رہی اور اس جدائی نے کوئی فرق نہیں ڈالا اور جس غرض کے لئے حضرت مصلح موعود نے میرے لئے آکسفورڈ کی تعلیم کو پسند کیا تھا، اُس تعلیم میں اس معنی میں مرد اور معاون ہوئیں کہ مجھے ایک دن بھی وہاں اُن کی طبیعت کو دیکھتے ہوئے یہ فکر پیدا نہیں ہوئی کہ میرے فراق کی وجہ سے وہ گھبرائیں گی۔مجھے پتہ تھا کہ وہ گھبرانے والی روح نہیں ہیں۔پھر جب میں تعلیم ختم کر کے آیا تو چند سال ہمارے قادیان میں گذرے۔۳۸ء میں میں آیا ہوں اور ۴۷ء میں ہجرت ہوگئی۔نو سال ہم قادیان میں رہے اور اس عرصہ میں میں تو واقف زندگی تھا اسماً اور کوشش کرتا تھا کہ عملاً بھی رہوں اور وہ واقفہ زندگی بن گئیں عملاً۔پہلے میرے سپرد جامعہ احمدیہ میں پڑھانا اور خدام الاحمدیہ کا کام تھا۔اس قدر ساتھ دینے والی تھیں کہ ایک دن خدام الاحمدیہ کے کسی پروگرام کے مطابق مجھے عصر کے بعد اپنے گھر سے دور کسی محلے میں خدام کے کسی پروگرام میں شرکت کے لئے جانا تھا میری بچی امتہ الشکور اُس دن بڑی سخت بیمار ہوگئی اور اسے اسہال شروع ہوئے اور دیکھتے دیکھتے اس کا وزن آدھا ہو گیا یعنی جسم کا پانی نچڑ گیا۔میری