خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 22 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 22

خطبات ناصر جلد نهم ۲۲ خطبه جمعه ۳۰/ جنوری ۱۹۸۱ء کی زندگی میں ہیں ان کو دور کر سکتا ہے۔اسی سفر میں جو پچھلے سال میں نے کیا ۸۰ء میں دو مہینے ہوئے۔فرینکفرٹ میں پریس کانفرنس میں ایک صحافی مجھے کہنے لگے کہ اسلام نے عورت پر بڑی سختی کی ہے تنگی۔ان کا مطلب تھا کہ یہ جو پردہ کے احکام ہیں یہ عورت کو تو پتہ نہیں پسند ہیں یا نہیں وہ مرد بول رہا تھا کہ ہمیں نہیں پسند مردوں کو۔میں نے انہیں کہا کہ دیکھو! قرآن کریم تمہاری بیٹیوں، بہوؤں، بیویوں کی عزت کی حفاظت کے لئے ایک قانون بناتا ہے تم اس کے اوپر کیسے اعتراض کرتے ہو۔خیر وہ بات سمجھ گیا کیونکہ ان کو تو پتہ ہے۔میں لندن میں تھا ، ٹی وی پر پروگرام آیا کہ پانچ ہزار معصوم بچی انگلستان میں ہے کہ انگلستان کے انگریز غنڈے ان کی عزت لوٹتے اور ان کو حاملہ کر دیتے ہیں ان کی مرضی کے خلاف یعنی وہ بد معاش لڑکیاں نہیں ہیں معصوم لڑکیاں، انہوں نے بعض مثالیں دے کے اور ان کی شکلیں دکھا ئیں ساری زندگی تباہ کر دی۔وہ ساری زندگی روتی ہیں۔پردے پر تمہیں اعتراض ہے اور ان پانچ ہزار بچیوں کی سالانہ جو تم آپ کہتے ہو نا جائز بچے ، ناجائز طریقے پر ان کی مرضی کے خلاف جنوائے جاتے ہیں۔ان بچیوں کی عزت کا اور ان کے جذبات کا تمہیں کوئی خیال ہی نہیں۔ابھی دو چار روز ہوئے مجھے امریکہ سے ایک Cutting ہمارے مبلغ نے بھجوایا۔انہوں نے اس میں لکھا ہوا تھا کہ امریکہ میں کئی لاکھ عورت کے ساتھ یہ سلوک ہوتا ہے کئی لاکھ عورت اور جب میں نے اس شخص کو یہ کہا کہ قرآن کریم تمہاری بیٹیوں، بہوؤں اور بیویوں کی عزت کی حفاظت کے لئے ایک قانون بناتا ہے اور تم اس پر اعتراض کرتے ہو۔تم کہتے ہو ہمیں یہ پسند نہیں۔مجھے نہیں سمجھ آئی یہ بات۔ایک اور صحافی بات تو وہ سمجھتے تھے سارے، مجھے کہنے لگے کہ عورتیں بھی تو غنڈی ہوتی ہیں تو ان کے غنڈہ پن سے ہمیں بچانے کے لئے اسلام کیا کہتا ہے وہ صرف تو جہ ہٹانا چاہتا تھا دوسری طرف۔ویسے بھی مجھے جواب دینا تھا۔میں نے انہیں کہا اگر تم نقاب پہننا شروع کر دو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ان کا مسئلہ ایک ہے میں آپ کو یہ بتارہا ہوں کہ محض یہ کہنا کہ قرآن عظیم ہے کیونکہ تمہارے مسائل حل کرتا ہے۔ان کے اوپر کوئی اثر نہیں جب تک آپ یہ نہ کہیں کہ تمہارا یہ مسئلہ ہے۔تم