خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 338 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 338

خطبات ناصر جلد نهم ۳۳۸ خطبہ جمعہ ۲۷ نومبر ۱۹۸۱ء جس شخص کو اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل نہ ہو اور اس کی عظمت ، اس کی رفعت ، اس کی شان سے وہ ناواقف اور نا آشنا ہو وہ بد قسمت انسان خدا کے سامنے بھی اباء اور استکبار کا رویہ اختیار کر لیتا ہے۔خدا تعالیٰ کے جو عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے حقوق کی ادائیگی ہے اس کے نتیجہ میں دو احساس پیدا ہوتے ہیں انسان کے اندر۔ایک احساس اپنی ذات کے متعلق ہے اور وہ نیستی کا احساس ہے۔لاشے محض ہونے کا احساس ہے۔میں کچھ نہیں“۔اور دوسرا احساس یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس سے زندہ تعلق قائم رکھنے کا قرآن کریم نے مجھے حکم دیا اور جس کی راہیں اس نے مجھ پروا کیں اور کھولیں ، وہ اللہ جو ہے وہ بہت ہی رفعتوں والا ، بہت ہی عظمتوں والا ، علوشان، ہر قسم کی صفاتِ حسنہ سے متصف کوئی غیب اور برائی اور کمی اور نقص اور کمزوری اس کی طرف منسوب نہیں ہوسکتی جوں جوں وہ عرفان میں بڑھتا چلا جاتا ہے، خدا تعالیٰ کی عظمت کے عرفان میں ، اسی کے ساتھ ساتھ وہ اپنی نیستی کا جو احساس ہے اس میں وہ شدت اختیار کرتا چلا جاتا ہے یعنی اس کو پتہ لگتا ہے کہ میں جو دو سال پہلے مثلاً سمجھتا تھا کہ میں اس قسم کا نیست ، اور لاشے محض ہوں ، میں تو اس سے بھی زیادہ نیست اور میری کیفیت اور حالت اور حقیقت تو اس سے بھی زیادہ لاشئی محض کی ہے۔اس وقت اس لمبے مضمون کا ایک پہلو میں آپ کے سامنے رکھوں گا اور وہ یہ کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے یہ جو خدا تعالیٰ کے مقابلے میں نیستی کا تصور ہے، اسے کس رنگ میں بیان کیا ہے، آپ نے بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے میں مختصراً اس وقت اسے بیان کروں گا چونکہ یہ حقوق اللہ کی ادائیگی کی بنیاد تھی ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نثر میں بھی پورے Emphasis کے ساتھ ، پورے زور کے ساتھ اس پر روشنی ڈالی گئی اور آپ کی نظم میں بھی اس پر روشنی ڈالی گئی۔آپ نے زیادہ تر تین زبانوں میں منظوم کلام ہمارے سامنے ہماری ہدایت اور راہنمائی کے لئے رکھا۔عربی میں منظوم کلام ارود اور فارسی میں۔اس وقت میں نے چند ایک اشعار اردو اور فارسی کے منتخب کئے ہیں میں وہ پڑھ کے سناؤں گا۔کچھ چھوٹی سی تمہید میں نے آپ کے سامنے رکھ دی ہے۔آپ کوشش کریں اور میں دعا بھی کرتا ہوں اور کوشش بھی کروں گا۔آپ کوشش کریں کہ آپ سمجھ جائیں اور میں کوشش کروں گا دعا کے ساتھ کہ آپ کو سمجھانے میں کامیاب ہو جاؤں۔