خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 337 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 337

خطبات ناصر جلد نهم ۳۳۷ خطبہ جمعہ ۲۷ / نومبر ۱۹۸۱ء خدا جو عزت کا سرچشمہ ہے اس سے عزت حاصل کریں خطبه جمعه فرموده ۲۷ /نومبر ۱۹۸۱ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا :۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعا ( بنی اسراءیل:۱۱۰) که قرآن کریم اپنے ماننے والوں کو عجز ،انکسار اور تواضع میں بڑھا تا ہی چلا جاتا ہے۔جس قدر انسان خدا تعالیٰ سے علوم قرآنی سیکھتا ہے، اتناہی اسے اپنی صحیح ذمہ داریوں کا احساس ہوتا ہے۔قرآن کریم میں جو ذمہ داریاں انسان پر ہمیں نظر آتی ہیں کہ ڈالی گئی ہیں بنیادی طور پر دو حصوں پر منقسم ہوتی ہیں۔ایک حقوق اللہ اور دوسرے حقوق العباد۔جہاں تک حقوق العباد کا تعلق ہے وہ تمام احکام باری تعالیٰ جو قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں ان کی بنیا داس بات پر ہے كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (ال عمران : ۱۱۱) تم بنی نوع انسان الناس“ کی خیر اور بھلائی کے لئے قائم کئے گئے ہو، ان کی خدمت پر مامور ہو اور خادمانہ راہیں اور عاجزانہ راہیں ایک ہی راہیں ہیں ان میں کوئی فرق ہمیں نظر نہیں آتا لیکن اس وقت میں اس حصے کے متعلق کچھ کہنا نہیں چاہتا بلکہ دوسرے حصے کے متعلق کہنا چاہتا ہوں یعنی اللہ تعالیٰ کے حقوق کے متعلق جن کی ادائیگی کی بنیاد بھی عاجزی اور انکساری پر رکھی گئی۔