خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 306 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 306

خطبات ناصر جلد نہم خطبه جمعه ۶ /نومبر ۱۹۸۱ء حرکت کرنے والا ہو اور اُس کے فضلوں کو پانے والا ہو۔مفردات راغب میں یہ بھی ہے کہ مجاہدہ ہاتھ سے بھی ہو جو کوشش ، اُسے بھی مجاہدہ کہتے ہیں اور جو زبان سے ہوا سے بھی مجاہدہ کہتے ہیں۔ہاتھ سے کوشش محاورہ ہے یعنی جو مادی طریقے پر کوشش کی جائے مثلاً انسان کا نفس ہے جو اپنے خلاف مجاہدہ کرتا ہے وہ ہاتھ کی کوشش ہے۔انسان اپنے آپ کو وعظ نہیں کیا کرتا تقریر کر کے۔وہ دوسروں کو سناتا ہے۔کبھی خلوص نیت کے ساتھ کبھی بد نیتی کے ساتھ خدا کے ساتھ ایسے لوگوں کا معاملہ۔لیکن ہر وہ کوشش جو زبان کی نہیں وہ کوشش ہاتھ کی کوشش کے اصطلاحی معنے میں شامل ہیں۔چونکہ اسلام کی ساری تعلیم ان بنیادوں پر کھڑی ہوئی اور ان ستونوں کے اوپر وہ بلند ہوئی اس لئے جماعت احمدیہ کے سارے کام جو دینی اغراض کو پورے کرنے والے ہیں اُن کا تعلق خالص ایمان کے ساتھ ہے۔جو ہجرت کے معنی ہیں ھجران الشهوات اور اخلاق ذمیمہ سے پر ہیز اور خطا یا سے بچنا اس کے ساتھ ہے اور مجاہدہ اپنی جو شکلیں اختیار کرتا ہے یعنی مقدور بھر کوشش پوری سعی اپنی ، پورا زور لگا دینا۔پوری طاقت خرچ کرنا تا کہ اسلام کا دشمن نا کام ہو شیطان کے ہتھیار کند ہو جائیں اور انسانی نفس خدا کا بندہ بن کر زندگی گزارے شیطان کا بندہ بن کر زندگی نہ گزارے۔اس لئے جو جماعتی پروگرام ہیں ان کو ہم نہ نظر انداز کر سکتے ہیں نہ بے توجہی سے اُن کو لے سکتے ہیں ، نہ ہمارا عمل مقدور بھر کوشش جو مجاہدہ کی جان ہے اُسے کئے بغیر کامیاب ہو سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لنگر جو ہے اُسے جماعتِ احمدیہ کی جو کوشش، اسلام کو دنیا میں غالب کرنے کی ہے اُس کا ایک ستون بتایا ہے۔زمانہ کروٹیں بدلتا ہے کبھی لنگر خانے کا انتظام ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو اتنی اہمیت دی کہ اپنے ہاتھ میں رکھا پھر پھیل گیا پھر نظام ایک بن گیا۔وہ نظام کبھی تھوڑا بہت کمزور بھی ہوا کبھی بہت کچھ ترقی بھی کی لیکن ایک چیز ہمارے مشاہدہ میں ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اتنا اثر ہے دارالضیافت کے نظام کا۔اپنوں پر بھی اور جو باہر سے آتے ہیں ہمارے بھائی جو ابھی احمدی نہیں ہیں اُن پہ بھی کہ جس وقت