خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 293 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 293

خطبات ناصر جلد نهم ۲۹۳ خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۸۱ء کر۔دُعا ہی ہے پانچ وقتہ تا کہ کم سے کم جو ہمارے لئے ضروری تھا وہ ہمیں مل جائے۔اور پھر کہا جتنی زیادہ نوافل کے ذریعہ مجھ سے مدد حاصل کرتے رہو گے ملتی رہے گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میری مدد تمہیں مل نہیں سکتی صبر اور دعا کے بغیر اور تمام دباؤ کے باوجود جو شیطانی اور طاغوتی طاقتیں تمہارے اوپر ڈالیں گی اور تمہیں گمراہ کرنے کی کوشش کریں گی اور دعا ان طاغوتی طاقتوں کو ناکام بنا دے گی۔صبر کرنا اور دعا کو اپنی شرائط کے ساتھ مانگنا بڑا مشکل کام ہے۔وَ إِنَّهَا لَكَبِيرَةُ یہ آسان کام نہیں۔یہ تو درست ہے لیکن جس قسم کے صبر کا، استقامت کا ہونا ضروری ہے یعنی یہ کہ ایک لحظہ کے لئے بھی غیر کا خیال انسانی ذہن میں نہ آئے اور ہر وقت اُس کے آستانہ پر انسان جھکا رہے دُعا کرتے ہوئے ، اس کے بغیر وہ مدد نہیں مل سکتی اور یہ آسان کام نہیں لیکن آسان ہے بھی۔آسان ہے ان لوگوں کے لئے جو عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہیں۔إِلَّا عَلَى الْخَشِعِينَ جو عاجزی کو اور فروتنی کو اور انکسار کو اور تواضع کو اختیار کرتے ہیں اُن کے لئے صبر اور ہمیشہ دُعا میں مشغول رہنا اور مضبوطی کے ساتھ اتباع وحی قرآنی کرتے رہنا یہ مشکل نہیں ہے اور یہ جو خشوع ہے ، یہ عاجزی اور انکساری یہ الَّذِيْنَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلْقُوا رَبِّهِمْ اس معرفت کے نتیجہ میں انسان کے دل اور اس کے سینہ میں پیدا ہوتا ہے کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ اَنَّهُمْ مُلْقُوا رَبِّهِمْ کہ اُن کا واسطہ اُن کے خدا سے پڑنا ہے اور وہ یہ شدید خواہش رکھتے ہیں کہ انہیں اَنَّهُمْ مُلْقُوا رَبِّهِمْ وصالِ الہی حاصل ہو ، اس زندگی میں بھی۔اور اس یقین پر قائم ہیں کہ جو بھی فیصلہ ہونا ہے صبر و دعا کے قبول ہو جانے کا ،صبر اور استقامت اور اتباع وحی قرآنی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق ، اللہ تعالیٰ انہیں قبول کرتا ہے اپنے فضل اور اپنی رحمت سے یا اُن کے اندر جو بشری کمزوریاں رہ جائیں بدقسمتی سے اللہ تعالیٰ اُن کی وجہ سے اُن کو کہیں رد تو نہیں کر دیتا و أَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَجِعُونَ یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کرنا ہے یہ خواہش کہ خدا سے زندہ تعلق قائم ہونا چاہیے اور قائم رہنا چاہیے اور اس حقیقت کی معرفت که آخری فیصلہ اللہ نے کرنا ہے اسی کی طرف ہم نے لوٹ کے جانا ہے، اُن کو اس مقام پر لا کھڑا کرتا ہے کہ ہم لاشے محض ہیں ، ہم کچھ بھی نہیں ، نیست ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لئے امت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم میں سے جو تواضع کرے گا ، عاجزانہ راہوں کو اختیار