خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 292
خطبات ناصر جلد نهم ۲۹۲ خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۸۱ء ساری اسلامی تعلیم کی بھی اور ہماری زندگیوں کی بھی اور وہ یہ ہے کہ عاجزی کو اختیار کرو۔“ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی بہت سی آیات میں اس مضمون پر ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے۔ایک جگہ فرمایا وَ يَزِيدُهُمْ خُشُوعًا (بنی اسرآءيل:۱۱۰) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ قرآن عظیم يَزِيدُهُمْ خُشُوعًا انہیں عاجزی اور فروتنی میں اور بھی زیادہ کرتا چلا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن کریم میں جو بھی تعلیم پائی جاتی ہے وہ وحی تعظیم جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی اور جس نے نوع انسانی کے ہاتھ میں ایک کامل شریعت پکڑائی۔سارے احکام ، اوامر بھی اور نواہی بھی ایسے ہیں جن کی بنیاد عاجزی اور انکساری پر ہے یا جن پر عمل کرنا عاجزی اور انکساری کی راہوں کو اختیار کئے بغیر ممکن ہی نہیں۔میں نے مثال کے طور پر ایک آیت کو اس وقت منتخب کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ ۖ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةُ إِلَّا عَلَى الْخَشِعِينَ - الَّذِيْنَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلْقُوا رَبِّهِمْ وَ أَنَّهُمْ إِلَيْهِ رجِعُونَ (البقرة : ۴۶، ۴۷) یہ دو آیات ہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ حکم دیا کہ میرے سارے احکام، اوامر اور نواہی جن پر عمل کرنا ضروری ہے تم اُن پر عمل نہیں کر سکتے جب تک میری مدد، میر افضل اور رحمت تمہارے شامل حال نہ ہو۔اس لئے وَاسْتَعِينُوا تم خدا تعالیٰ سے مدد مانگو۔اس لئے کہو کہ ہماری مدد کو آ اپنے فضل اور رحمت سے۔تا کہ ہم تیرے احکام بجالا کر اس طریقے پر جس طریق کو تو پسند کرتا ہے تیری رضا کو حاصل کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم محض یہ کہہ دینے سے کہ ہماری مددکو آمیری مددکو نہیں پاؤ گئے۔میری مدد کے حصول کے لئے دورا ہیں میں نے تمہارے لئے کھولی ہیں۔ایک صبر کی راہ ہے دوسرے دُعا کا راستہ ہے۔صبر کے معنے ہیں مضبوطی کے ساتھ استقامت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی تعلیم پر گامزن رہنا، اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا اور الصلوةُ - الدُّعَاءُ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔یہ جو ہم ایک فارمل دعا کرتے ہیں۔نماز ابھی ہم پڑھیں گے جمعہ کی اور عصر کی۔یہ بھی کیا ہے؟ تسبیح ہے ، تحمید ہے ، استغفار ہے ، درود ہے ، بہت کچھ ہم ما نگتے ہیں۔بہت کچھ قرآن کریم کی آیات ہیں۔خدا سے کہتے ہیں جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں اُن کی عقل اور سمجھ ہمیں عطا