خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 282
خطبات ناصر جلد نهم ۲۸۲ خطبه جمعه ۹/اکتوبر ۱۹۸۱ء تَشَاءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ (ال عمران : ۲۷) اس زمانہ میں ان کی زندگی نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ التجا کی تھی کہ اگر ہمارے ہاتھ میں مملکت رہے تو تیری مخلوق کو فائدہ پہنچے گا بجائے اس کے کہ کسی اور کے ہاتھ میں چلی جائے اور خدا تعالیٰ جس نے انہیں پیدا کیا اور ایسا بنایا جیسا وہ تھے ان کی اس قابلیت کو جو اسی نے دی تھی دیکھتے ہوئے ان کو یہ موقع دیا کہ وہ انسانیت کی خدمت کریں۔بڑے بڑے لاٹ پادری ان کے مدرسوں میں آکر علم حاصل کرتے تھے۔علم کے میدانوں میں اسقدر آگے نکلے کہ آج بھی وہ دنیا جو اس روشن ماضی کو بھول چکی ہے، ان کا رناموں سے انکار نہیں کر سکتی ، نہ کرتی ہے۔اقرار دبی زبان سے کرتی ہے۔دھیمی آواز میں کرتی ہے مگران کا احترام کرتے ہیں، انکار نہیں کرتے۔پھر دنیا نے انہیں اپنی طرف راغب کر لیا۔دنیا کی رغبت اور اس کا زہر آہستہ آہستہ اپنا اثر دکھاتا ہے اور آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے وہ محروم ہوتے رہے اور وہ جو بارہ ہزار کی تعداد میں یہاں آئے ان کے مقابل عیسائی طاقت جن کا ملک تھا یہ، لاکھوں کی ان کی فوج تھی اور اکیلا یہ ملک ہی نہیں تھا کہ ایک جزیرہ ہے پین ، جس کے چاروں طرف سمندر ہے جو فوج ان کے پاس ہے بس اسی سے انہوں نے کام لینا ہے، ان کی پشت کے ساتھ ان کے ممد اور معاون اور ہم مذہب اور اتنے ہی متعصب اسلام کے خلاف جتنے یہ خود تھے۔فرانس تھا ، پھر اس کی پشت کے ساتھ جرمنی لگا ہوا تھا، پھر سارا یورپ جو تھا وہ ان کو مدد دینے کے لئے تیار تھا ایک وہ وقت ، جب بارہ ہزار ان لاکھوں کے مقابلے میں کافی تھے اور ایک وہ وقت آیا جب ان کے دل صراط مستقیم کو چھوڑ کر کج راہوں پر چلنے لگے اور ان کے ذہنوں میں نور کی بجائے ظلمتیں بسیرا کرنے لگیں اور ان کی روح اللہ تعالیٰ کے پیار کے سایہ سے نکل کر شیطانی آگ سے لذت پانے لگی جب لاکھوں بن گئے اس وقت لاکھوں کا مقابلہ نہیں کر سکے۔جب بارہ ہزار تھے تو لاکھوں پر بھاری تھے۔جب لاکھوں بن گئے تو شاید دشمن ان سے کم ہوں تعدا میں ، وہ ان پر بھاری ہو گئے۔ربَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا اس واسطے دعا سکھائی خدا نے ہمیں بڑے پیار سے۔یہ دعا کرتے رہو ہدایت پانا بھی اس کے فضل سے ہوتا ہے، ہدایت پر قائم رہنا بھی اس کی مدد اور رحمت کے بغیر