خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 265
خطبات ناصر جلد نهم خطبہ جمعہ ۱۸؍ ستمبر ۱۹۸۱ء ہنر اور پریکٹس کمال کو پہنچی ہوئی ہو۔شکل بدلی ہوئی ہوگی۔اس زمانے میں دفاع کے لئے اور دشمن کے منصوبہ کو ناکام بنانے کے لئے مادی اسلحہ کی بھی ضرورت تھی ، غیر مادی ہتھیاروں (بصائر وغیرہ) کے استعمال میں بھی ان کو مہارت حاصل تھی۔مگر ہمارے ہتھیا رصرف وہ بصائر ہیں جن کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے۔بصائر سے مراد دلائل ہیں۔بصیرت کی جمع بصائر ہے ایک تو ہے نا آنکھ کی نظر۔ایک ہے روحانی نظر جس کے متعلق قرآن کریم نے کہا ہے کہ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ (الحج: ۴۷) آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں روحانی طور پر وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں دھڑک رہے ہوتے ہیں۔ایک تو ہماری جنگ بصائر کے ساتھ ہے اور بصائر کہتے ہیں وہ دلیل جو فکری اور عقلی طور پر برتری رکھنے والی اور مخالفین کو مغلوب کرنے والی ہو ہمارے ہتھیار ( نمبر دو ) نشان ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کا اظہار جو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو اس لئے اور اس وقت عطا کرتا ہے جب وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ لڑ رہے ہوں۔اس کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہے۔دعاؤں کے ساتھ اسے جذب کیا جاسکتا ہے۔اس کے لئے بصائر سیکھنے ، دعائیں کرنے کے جو مواقع ہیں ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔اس واسطے جو آنے والے ہیں ان کو آج ہی سے دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ جس مقصد کے لئے ہمیں بلا یا جا رہا ہے انہیں پورا کرنے کے سامان کرے۔ہمیں بلایا جا رہا ہے باتیں دین کی سننے کے لئے، کچھ باتیں کہلوانے کے لئے ، ہم تقریریں کرتے ہیں یہاں آ کے خدا کرے اس میں بصائر ہوں، آیات کا ذکر ہو۔نور ہم نے پھیلانا ہے وہ نور ہم حاصل کرنے والے ہوں ، اپنی زندگیوں میں اسے قائم کرنے والے ہوں، اپنے اعمالِ صالحہ میں اس کو ظاہر کرنے والے ہوں ، ظلمات دنیا کو نور میں بدلنے والے ہوں۔جو اجتماع ہورہے ہیں اس میں دو طرح کے نظام ہیں جن کی پوری تیاری ہونی چاہیے۔ایک تو جو شامل ہونے والے ہیں۔خدام ، اطفال، ناصرات، لجنہ اماءاللہ، اور انصار اللہ۔فرداً فرداً ان کو تیار ہونا چاہیے۔ذہنی طور پر چوکس اور بیدار مغز لے کر یہاں آئیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت اور اس کے نور اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار اور خدا تعالیٰ کے عشق سے اپنی جھولیاں