خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 264
خطبات ناصر جلد نهم ۲۶۴ خطبہ جمعہ ۱۸؍ ستمبر ۱۹۸۱ء تھا۔کوئی راہی گذر رہا تھا اس نے سوچا بادشاہ سے مذاق کر رہے ہیں سارے۔جہاں وہ نشانہ مار رہا تھا وہ وہاں کھڑا ہو گیا جا کے۔تو حواری خوشامد خورے کہنے لگے نہ نہ پرے ہٹ پرے ہٹ مرنا چاہتا ہے؟ بادشاہ سلامت تیراندازی کر رہے ہیں۔اس نے کہا صرف یہ جگہ محفوظ ہے جہاں تیر نہیں لگ سکتا باقی دائیں بھی لگ رہا ہے، بائیں بھی لگ رہا ہے او پر بھی نکل رہا ہے ورے بھی پڑ رہا ہے، اس جگہ پر نہیں آرہا۔ایک وہ تیرانداز تھا اور ایک یہ تیرانداز کہ ایک ہزار انسان کی آنکھ میں نشانہ مارا ٹھیک اور وہ جو سپہ سالار نے رعب ڈالنا چاہا تھا مسلمان پر وہ ناکام ہو گیا۔وہ سب بھاگے اس طرف سے جہاں ان پر تیر پڑ رہے تھے اور شہر کے دوسری طرف جا کے اور دروازہ کھول کے باہر نکل گئے اور سارے شہر میں شور مچادیا کہ مسلمانوں نے ہماری آنکھیں نکال دی ہیں۔خدا کہتا ہے۔وکو أَرَادُوا الخروج لاعَدُّ واله عُدة اور اس زمانہ کا مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ تیاری کا یہ مطلب ہے کہ اگر یہ حکم ہو کہ ایک ہزار آنکھ نکال دو ایک ہزار آنکھ نکال دی جائے گی۔یہ ہے تیاری ! تیاری کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہر دو گھنٹے بعد تازہ دم فوج سامنے آ جائے تو آٹھ گھنٹے ایک مسلمان لڑتا رہے گا کامیابی کے ساتھ لڑے گا اور فاتح ہوگا۔ہر روز ، ہر دو گھنٹے بعد تازہ دم فوج سے لڑنے کے بعد شام جو نتیجہ نکلتا تھا وہ کسریٰ کی اسی نوے ہزار فوج کی شکست اور ان اٹھارہ ہزار مسلمان، دعا گو اللہ تعالیٰ پر توکل رکھنے والے، توحید خالص پر قائم ہونے والے مسلمان کی فتح۔یہ نتیجہ نکلتا تھا۔تیاری اس کا نام ہے قرآن کریم کے نزدیک جو مسلمان نے سمجھا۔تاریخ میں آتا ہے کہ اتنی تیاری کرواتے تھے اپنے بچوں کو کہ بارہ سال کا بچہ آٹھ سال کے بھائی کے سر پر سیب رکھ کے تیر سے اڑا دیتا تھا۔اگر دو تین انچ بھی نشانہ سے نیچے پڑے تو ماتھے پہ لگے اور مرجائے بھائی لیکن اس کو پتا تھا کہ میرا تیر سوائے سیب کے کسی اور چیز کو نہیں لگ سکتا اور یہ مشق اور مہارت تھی۔یہ ان کی کھیل تھی۔زمانہ بدل گیا ہے اس واسطے میں اپنے خدام اور انصار اور اطفال اور ناصرات سے کہتا ہوں کہ آج کی جنگ جن ہتھیاروں سے لڑنی ہے ان ہتھیاروں کی مشق ، مہارت ، اور آپ کا