خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 257
خطبات ناصر جلد نهم ۲۵۷ خطبہ جمعہ ار ستمبر ۱۹۸۱ء صرف اس کی ذمہ داری ہے جو اس کے ذمے لگایا گیا۔اور ذمہ داری کیا ہے؟ اسی آیت میں آگے كها وَ مَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلغُ الْمُبِينُ۔اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری یہ ہے الا البلع المبين کہ صرف بات کو کھول کر لوگوں تک پہنچاد دینا۔وحی کولوگوں تک پہنچا دینا، اُمّی ہونے کے لحاظ سے اپنی طرف سے کچھ ملاوٹ نہیں کرنی۔ہو ہی نہیں سکتی آپ کی فطرت میں ہی نہیں یہ۔اسی چیز کو واضح کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ایسا سامان کیا کہ ایک واقعہ ہو گیا۔سورہ یونس دو کی سولہویں آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اور جب انہیں ہماری روشن آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جو لوگ ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے وہ کہہ دیتے ہیں کہ اے محمد! اِثْتِ بِقُرانِ غَيْرِ هَذَا أَوْ بَدِلْهُ (یونس :١٦) کہ تو اس کے سوا یعنی جو وحی نازل ہو رہی ہے قرآن کریم کی اس کے سوا کوئی اور قرآن لے آیا اس میں کچھ تغیر و تبدل کر دے۔تو کہہ دے یہ میرا کام نہیں ہے۔یہ امی بول رہے ہیں نا اب۔تو کہہ دے کہ یہ میرا کام نہیں کہ میں اس میں اپنی طرف سے کوئی تغیر و تبدل کروں۔بڑا زبردست اعلان ہے آج کی دنیا کے لئے۔جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرے گا اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کے لئے وہ بھی یہی اعلان کرے گا کہ جو قرآن کریم میں آچکا اس میں چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی کسی انسان کا یا کہنے والا کہے گا میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں اس میں کوئی تغیر و تبدل کروں۔میرا یہ کام ہے سَبْعًا وَ طَاعَةٌ میں قرآن کریم پڑھوں اور سنوں اور اس کے مطابق عمل کروں۔إنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَتی ائی۔یہ اسی آیت کا ہے۔مجھ پر جو وحی کی جاتی ہے میں تو صرف اسی کی اتباع اور پیروی کرتا ہوں اس کے علاوہ ادھر ادھر کی نہیں۔آگے اعلان کیا یعنی ممکن نہیں لیکن جو شخص قرآن کریم کی وحی میں ردو بدل کرے کوئی تغیر کرنا چاہے اس کے لئے اس کو سمجھانے کے لئے ، اس کے لئے بطور انذار کے کہ پھر تمہیں عذاب عظیم ملے گا، یہ اعلان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے کروایا جن کے لئے یہ ممکن ہی نہیں تھا۔جن کی حالت یہ تھی ان کی کیفیت تھی جو خدا نے مشاہدہ کی وہ قرآن کریم میں بیان کی ناکہ یہ میرا کام نہیں کہ میں اس میں اپنی طرف سے کوئی تغیر وتبدل کروں۔اِن اَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى۔ساتھ یہ اعلان کرا دیا۔إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي