خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 255
خطبات ناصر جلد نهم ۲۵۵ خطبہ جمعہ ۱۱ ستمبر ۱۹۸۱ء کر سکتا جب تک کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والا نہ ہو۔قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران : ۳۲) کوئی شخص چھوٹی سے چھوٹی روحانی رفعت حاصل ود نہیں کر سکتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے پر کھڑا ہوکر اور ہر شخص اپنی استعداد، صلاحیت کے مطابق انتہائی دائرہ استعداد میں انتہائی رفعت حاصل کر سکتا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اور اس کا گر یہ بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو اللہ تعالیٰ کا پیار تمہیں حاصل ہو جائے گا۔یہ کیوں کہا؟ وہ جو پہلے میں نے سوال دہرایا تھا نا اب اس موقع پر میں دہرا رہا ہوں کہ ایسا کیوں ہے کہ آپ اُسوہ ہیں اور آپ کی اتباع کئے بغیر اللہ تعالیٰ کا پیار ہمیں حاصل نہیں ہوسکتا۔قرآن کریم نے اسے بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے۔سورۃ یونس میں ہے حکم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وَ اتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ (یونس : ١٠) اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ جو تیری طرف میری وحی نازل ہو رہی ہے اس کی کامل اتباع کر۔اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے۔واصبر اور استقامت سے ، مضبوطی کے ساتھ ،صبر کے ساتھ اس پر قائم ہوجا۔کوئی غیر مسلم کہہ سکتا ہے حکم ہے۔یہ تو نہیں کہیں ہوا کہ اس حکم کو آپ بجا بھی لائے۔سورہ اعراف میں ہے قل اعلان کر دو۔یہ خدا تعالیٰ نے جو دیکھا اس کا اعلان کروایا ہے۔یعنی خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اور نفس میں جو مشاہدہ کیا ، خدا تعالیٰ نے ، اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا اس کا اعلان کر دو۔قُلْ إِنَّمَا اتَّبِعُ مَا يُوحَى إِلَى مِنْ رَبِّي (الاعراف: ۲۰۴) حکم تھا نا اتباع کرو۔اعلان کروادیا کہ میں نے اس حکم کی اطاعت کی۔میں جو میرے رب کی طرف سے وحی نازل ہوئی ہے، اس کی کامل اتباع کرنے والا ہوں۔اور اُسوہ کے متعلق کہا ھذا بَصَابِرُ من ربكم تمہارے لئے اس وحی میں بصائر ہیں یعنی بصیرت پیدا کرنے والے دلائل ہیں۔و ھدی ہدایت کا سامان ہے، جس کے نتیجہ میں وَرَحْمَةُ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمتیں نازل ہوتی ہیں لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ان لوگوں پر، اس گروہ پر ، اس جماعت پر جو اپنے ایمان پر پختہ طور پر قائم