خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 254 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 254

خطبات ناصر جلد نهم ۲۵۴ خطبہ جمعہ ار ستمبر ۱۹۸۱ء فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللهَ كَثِيرًا (الاحزاب: ۲۲) جو اللہ اور اُخروی دن سے ملنے کی امید رکھتا ہو اور اللہ کا بہت ذکر کرتا ہو اللہ کے رسول میں ایک اعلیٰ نمونہ ہے جس کی پیروی کرنی چاہیے۔نبي اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم رہتی دنیا تک، قیامت تک کے انسان کے لئے اُسوہ ہیں۔اُسوہ ہیں حَسَنَةُ اعلیٰ نمونہ کامل نمونہ ، ایک ایسا نمونہ جس میں ہر فطرت ، ہر قابلیت اور استعداد اپنے لئے قابلِ پیروی راستہ تلاش کر سکتی ہے یعنی جو ہدایت کی راہوں میں ترقی یافتہ ہیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ سے آزاد نہیں ہو جاتے۔یعنی اسی طرح محتاج ہیں جس طرح ایک مبتدی جو کل مثلاً کلمہ پڑھ کے ایمان لایا۔بڑا عظیم اُسوہ ہے۔اس کو سمجھانے کے لئے میں یہ بتادوں کہ معراج میں جو آپ کا مقام بتایا گیا وہ عرشِ ربّ کریم ہے یعنی ساتویں آسمان سے اوپر۔اس واسطے ہر مومن جو روحانی رفعتیں حاصل کر رہا ہے اور بلند سے بلند ہوتا چلا جارہا ہے جب تک وہ عرش رب کریم تک نہیں پہنچ جاتا، جو نہیں پہنچ سکتا۔اس واسطے عملاً جو ممکن ہے وہ یہ ہے کہ جب تک وہ ساتویں آسمان تک نہیں پہنچ جاتا اس وقت تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی انگلی پکڑ کے اس کی رفعتوں کا سامان کرنے والے ہیں ،اس کے لئے اسوۂ حسنہ ہیں۔کیوں اُسوہ حسنہ ہیں؟ یہ سوال یہاں بہت اہم ہے کہ نبی کریم کو جو اسوہ حسنہ کہا گیا تو بعض لوگ اس دنیا میں ایسے پیدا ہو گئے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بڑی عظمت تھی اس لئے آپ کو یہ بھی اختیار دیا گیا کہ قرآن کریم کے مخالف، مقابل مختلف اور متضاد فتویٰ دے دیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ (البقرۃ: ۱۵۷) لیکن قرآن کریم نے بڑی وضاحت سے اس کی تردید کی ہے۔( یہ ابھی جو میں نے فقرہ بولا ہے وہ سنو اور یا درکھو۔اس پر میں آزادانہ ایک خطبے میں یا کسی تقریر میں یا کسی مضمون میں اس کے مختلف پہلوؤں پر تنقید کروں گا )۔سوال یہ ہے کہ کیوں اُسوہ ہیں؟ ہمیں کہا گیا تھا امِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ (الاعراف: ۱۵۹) ہمیں کہا گیا تھا وَاتَّبِعُوہ ہمیں بتایا گیا کہ تمہارے لئے اسوہ بنائے گئے ہیں کیوں؟ ہاں ایک چیز رہ گئی۔نمبر (۴) ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل نہیں