خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 12 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 12

خطبات ناصر جلد نهم ۱۲ خطبہ جمعہ ۹؍ جنوری ۱۹۸۱ء بنی تھی تو ان کے قانون کے مطابق اس مسجد کا نقشہ میڈرڈ میں بھی پاس ہونا چاہیے تھا۔شروع میں جو خط آئے تو میں یہی سمجھا تھا کہ وہاں جائے گا اور پاس ہو گا لیکن بعد میں پتہ لگا کہ نقشوں کے پاس کرنے کا جو قانونی اختیار وفاقی حکومت کو یا میڈرڈ کو، مرکز کو ہے انہوں نے قرطبہ کے صوبے کو Delegate (ڈیلیگیٹ) کر دیا ہے۔یعنی ان کو کہا ہے کہ تم اس کو ہماری قائم مقامی میں استعمال کر سکتے ہو۔ساری دنیا میں یہ ہو رہا ہے آج کی سیاسی دنیا میں یہ ہورہا ہے کچھ اقتدار دوسرے کو سونپ دیا جاتا ہے۔اقتدار اعلی صاحب اقتدار اعلیٰ کی طرف سے ایک ایسے صاحب اقتدار کے سپرد کر دیا جاتا ہے جو صاحب اقتدار اعلی نہیں مثلاً وفاقی حکومت صوبوں کو دے دے گی یا جو اختیار گورنر کا ہے وہ وزیروں کو دے دے گی یا جو وزیر کا ہے وہ کمشنر کو دے دے گی۔یہ ایک عام طریق آج کی دنیا کی سیاست کا ہے۔کسی جگہ کوئی شکل اختیار کرتا ہے کسی جگہ کوئی شکل اختیار کرتا ہے۔بہر حال اس اصول کو اس دنیا نے اپنی زندگی میں تسلیم کیا کہ اقتدارکو Delegate (ڈیلیگیٹ ) کیا جاسکتا ہے۔دوسرے کو دیا جا سکتا ہے۔قرآن کریم نے کہا ہے کہ خدا کی خدائی Delegate (ڈیلیگیٹ) نہیں ہوتی کسی کی طرف کہ خدا تعالیٰ کی بجائے اس کے بندوں میں سے کوئی وہ کام کرنے کا اختیار رکھتا ہوجس کا تعلق خدائی سے ہے۔مذہب میں اس قسم کی جو خرابیاں پیدا ہو ئیں مختلف مذاہب میں ہماری مذہبی زندگی میں حضرت آدم سے لے کے آج تک ، ان میں سے ایک یہ ہے جس کے لئے میں نے یہ ساری تمہید با ندھی کہ بعض لوگ یہ سمجھنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ اختیار دیا ہے کہ وہ جہنم کا پروانہ کسی کو لکھ کے دے دیں یعنی یہ کہیں کہ اس شخص نے ضرور جہنم میں جانا ہے یا بعض لوگوں نے یہ رسم چلا ئی اپنے ماحول میں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ جنت کا سرٹیفیکیٹ جاری کر دیں کہ جسے ہم کہتے ہیں، وہ جنت میں چلا جائے گا۔خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میری خدائی کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی کسی انسان کو نہیں دیا جا سکتا۔یہاں میں ایک بات واضح کر دوں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر اتم تھے۔اس لئے کہ کوئی انسان اس طور پر اللہ تعالیٰ کی محبت اور عشق میں فانی فی اللہ نہیں ہوا جس