خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 243 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 243

خطبات ناصر جلد نهم ۲۴۳ خطبه جمعه ۲۸/اگست ۱۹۸۱ء میں نے دولت مند دیکھے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان کو پیسہ دیا اور معدے بیمار کر دیے۔وہ مجبور ہو گئے غریب تر انسان کا کھانا کھانے پر کسی کام نہیں آئی دولت۔ایسے بیمار دیکھے ہیں کہ دنیا کا بہترین لباس پہن سکتے ہیں لیکن اس قسم کی Irritation ( اریٹیشن ) خراش ان کے خون کے اندر پیدا کی کہ وہ ململ کا بوجھ بھی نہیں برداشت کر سکتے۔تو دولتمند ہونا کس کام آیا ؟ خدا تعالیٰ جو خالق کل، مالک کل ہے اس کو تو ضرورت نہیں ہے آپ کی دولت کی۔اپنے نفس کی پوجا بھی نہیں کرنی قرآن کریم نے کہا ہے کہ بعض لوگ اہواء نفس کی پرستش کرتے ہیں ( قرآن کریم کی باتیں میں کر رہا ہوں اس وقت )۔شرک کے متعلق یہ بتایا ہے (أَهْوَانَّهُمْ ) نفسانی خواہشات کی پوجا کرنے لگ جاتے ہیں بہت سارے لوگ۔حالانکہ پرستش تو صرف خدا تعالیٰ کی ذات کی ہونی چاہیے اور اچھے خاندان کا ہے کوئی ، اچھے ماحول میں پرورش پائی ہے۔اچھا ذہن خدا تعالیٰ نے دیا ہے۔ذہن خدا تعالیٰ نے دیا ہے۔آپ نے فراست اور ذہانت جو ہے اس کی بھی پرستش نہیں کرنی۔جو ذہن دیتا ہے، وہ ذہن لے بھی لیا کرتا ہے۔ایک طالب علم ہمارے ساتھ کالج میں داخل ہوا۔بہت ہی چوٹی کے لڑکوں میں سے تھا اور خیال تھا کہ وہ I۔C۔S ( آئی سی۔ایس ) میں چلا جائے گا۔وہ اسی کی تیاری کر رہا تھا اپنی سمجھ کے مطابق۔جب ہم گورنمنٹ کالج میں جاتے تو ہمارا انتظار کر رہا ہوتا گالیاں دینے کے لئے جماعت احمدیہ کو۔بڑا متعصب تھا۔ہمیں تو کہا گیا ہے گالیاں سن کر دعا دو۔ہم اسے دعا دے دیتے تھے۔وہ ہمیں گالیاں دے دیتا لیکن خدا تعالیٰ سے نہ کوئی چیز چھپی ہے، نہ کوئی اس کی طاقت سے باہر ہے جس نے I۔C۔S ( آئی سی۔ایس ) کا امتحان دینا تھاوہ انٹر میڈیٹ کے امتحان کے وقت پاگل خانے میں تھا۔جو ہستی ذہن دے سکتی ہے وہ ذہن واپس بھی لے سکتی ہے۔کس بات پر فخر کرے گا انسان۔کیوں اپنے ذہن کی پرستش شروع کر دی۔اپنے نفس کی پرستش بھی نہیں کرنی۔یہ جو فنا“ ہے نا اس سے وحدانیت پر ایمان کا منبع پھوٹتا ہے۔فنا کے مقام کو مضبوطی سے پکڑ لو اور ہر چیز کو خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو۔پھر یہ دیکھو کہ جتنا جتناوہ پسند کرتا چلا جائے گا، اتنا اتنا پیار کرتا چلا جائے گا۔اور باقی دو باتیں جو رہ گئیں یعنی قرآن عظیم اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم، یہ پھرا گلے جمعہ۔انشاء اللہ۔