خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 242
خطبات ناصر جلد نهم ۲۴۲ خطبه جمعه ۲۸ اگست ۱۹۸۱ء کرتے۔محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم جسے خدا نے ساری کائنات کے لئے رحمت بنا کے بھیجا تھا اور ہمیں اس کی پرستش سے روکنے کے لئے کہا تھا عَبُدُهُ وَرَسُولُه محمد پہلے میرے عبد ہیں اور پھر میرے حکم سے میرے رسول ہیں اور کہا تھا کہ دنیا میں یہ پکار کے کہہ دو إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ (الکھف : ۱۱۱) بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں۔شرک ہم دولت کا بھی نہیں کرتے دولت مندوں کے آگے لوگ جھک جاتے ہیں۔یہ بھی دیکھتے ہوں گے آپ۔مگر سر جھکانے کے لئے تو ایک ہی در ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا در ہے۔شرک ہم طاقت واقتدار کا بھی نہیں کرتے۔ٹھیک ہے اللَّهُمَّ مُلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ (ال عمران : ۲۷) خدا تعالیٰ کے فعل ہیں جس کو چاہے دے دے لیکن ہمارا معبود نہیں بن جاتا وہ (اقتدار ) کہ ہم اس کے سامنے جھکیں اور اس کی عبادت کرنی شروع کر دیں۔چونکہ اس قسم کی کمزوریاں انسانوں میں پیدا ہو سکتی تھیں اس لئے فرمایا فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوني (البقرة :۱۵۱) ایسے لوگوں کا کوئی خوف تمہارے دلوں میں پیدا نہ ہو۔صرف میری ذات ہے جس کی خشیت تمہارے دل میں پیدا ہونی چاہیے اس معنی میں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے کسی فعل کے نتیجہ میں ہمارا رب ہم سے ناراض ہو جائے اور ہماری ہلاکت کے سامان پیدا ہوں۔شرک ہم اپنی ذات کا بھی نہیں کرتے۔شرک ہم اپنی طرف سے جو قربانیاں اپنے رب کے حضور پیش کر رہے ہیں ان کا بھی نہیں کرتے کہ ہم نے بہت کچھ دے دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے سب کچھ کر کے سمجھو کہ تم نے کچھ بھی نہیں کیا۔خدا تعالیٰ کو نہ ہمارے رکوع و سجود کی ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ کو نہ ہماری اوقات کی قربانی ، نہ جان کی قربانی کی ضرورت ہے اور خدا تعالیٰ کو نہ ہمارے مال کی ضرورت ہے۔جنہوں نے اس کو نہیں سمجھا انہوں نے کہہ دیا۔اللہ فقیر ہے ہم غنی۔بیوقوف انسان ! جو مالک کل ہے وہ فقیر کیسے بن گیا؟ اور جس کے پاس چھوٹی سی اسی کی پیدا کردہ دولت آگئی وہ چمنی کیسے بن گیا؟ میں مثال دے کے آپ کو سمجھاؤں۔جس کے پاس دولت ہے ایک فائدہ اس کو یہ ہے کہ خوب اچھا کھانا کھائے۔ہے نا فائدہ؟ لیکن