خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 241 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 241

خطبات ناصر جلد نهم ۲۴۱ خطبه جمعه ۲۸/اگست ۱۹۸۱ء وہ چھوٹی ٹہنی بڑی ٹہنی کے ساتھ خلال کی طرح ملاپ کرتی ہے وہ بھی سبز ، طاقت ور ، صحت مند تھی۔نیز بہت سے ایسے پتے بھی تھے کہ پتہ زرد اور اس کے ملاپ والی ٹہنی بھی زرد۔بس موت آئی کہ آئی، یہ کیفیت تھی اس کی۔شام کو میں نے یہ دیکھا۔صبح میں نے دیکھا کہ سبز پتہ نیچے گرا ہوا تھا اور زرد پتہ اپنی جگہ پر کھڑا تھا۔اس سے ہمیں پتہ لگا کہ یہ عام قانونِ قدرت نہیں ہے کہ جو زرد ہو وہ مرجائے اور زمین پر گر پڑے بلکہ حکم نازل ہوتا ہے ہر پتہ پر۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں وضاحت سے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم نازل ہوتا ہے تب پتہ گرتا ہے۔خدا تعالیٰ واحد ہے اور سب سے بڑا گناہ شرک ہے۔ایک احمدی کی زندگی میں کسی قسم کا بھی کوئی شک نہیں ہے، نہ ہونا چاہیے۔نوجوان نسل اچھی طرح یا در کھے۔ہم مشرک نہیں ، اس معنی میں بھی مشرک نہیں کہ ہم بتوں کی پرستش نہیں کرتے۔وہ بت جو انسان نے اپنے ہاتھ سے بنایا، اس کی پرستش کرنی شروع کر دی۔قرآن کریم نے انہیں ان الفاظ میں توجہ دلائی کہ اپنے ہاتھ سے (بت) بناتے ہو اور پھر ان کی پرستش کرنی شروع کر دیتے ہو۔کچھ عقل بھی ہے تمہارے اندر؟ یہ بالکل نا عقلی کی بات ہے نا۔ایسے بت بھی ہیں یعنی انسان، جنہیں خدا نے ان کی پاک بازی کی وجہ سے عظمت دی تھی پھر ان کے مریدوں نے ان کی قبر کی پرستش شروع کر دی۔بڑا ظلم ہے ایک بزرگ کی قبر پر جا کر سجدہ کرنا یا نماز اس کی طرف منہ کر کے پڑھ لینا۔بہر حال میں اپنا ذکر رہا ہوں ، جماعت احمدیہ قبر پرستی نہیں کرتی۔یہ ہمارا عقیدہ نہیں ہے، یہ ہمارا عمل نہیں ہے۔ہم یہ جانتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے سامنے جھکتا ہے وہ اپنی ہلاکت کے سامان پیدا کرتا ہے۔اور ہم مشرک نہیں اس معنی میں بھی کہ جو اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے رفعت اور بزرگی اور پاک بازی حقیقتا حاصل کرتے ہیں، ہم ان کی بھی پرستش نہیں کرتے۔ان کی عزت کرتے ہیں، ان کا احترام کرتے ہیں ، دعا ئیں ان کے لئے کرتے ہیں اور اگر خدا تعالیٰ ان کے ذریعے سے کسی کو ہدایت دینا چاہے تو ہم دعا کرتے ہیں کہ جو برکت انہوں نے خدا سے لی ہے اسے وہ زیادہ حاصل کریں لیکن ہم اس کی پرستش نہیں کرتے۔پرستش ہم اس عظیم انسان کی بھی نہیں