خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 11
خطبات ناصر جلد نهم 11 خطبہ جمعہ ۹ جنوری ۱۹۸۱ء کے حکم سے دس لاکھ انسانوں کی گردنیں کاٹی گئیں۔تو یہ جو سوچ اور فکر جس وقت بہک جاتی ہے خرابی پیدا کرتی ہے۔اس کے منبع سے فساد کے سوتے نکلتے ہیں۔یہی حال اعتقادات کا ہے۔قرآن کریم نے ہماری زندگی کے اصول وضع کئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم میں سات سو سے زیادہ احکام تمہاری زندگی کو خوبصورت بنانے کے لئے بتائے گئے ہیں اور ان میں سے ہر ایک تم سے قیامت کے دن جواب طلب کرے گا کہ تم نے اس کے مطابق اپنی زندگی گزاری یا نہیں۔اسی طرح اعمال ہیں۔قرآن کریم اتنی عظیم کتاب ہے اور اس قسم کی بنیادی صداقتیں ہمارے سامنے پیش کرتا ہے کہ انسانی فطرت اس کی طرف فطرتا جھکتی ہے بالکل اس کے مطابق ہے۔قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ یہ ظاہر میں اچھے عمل ہوں گے اس کے نتیجہ میں تمہیں انعام مل جائے گا۔خدا تعالیٰ کی جنتوں میں تم چلے جاؤ گے یہ نہیں کہا۔قرآن کریم نے یہ کہا ہے کہ جب تمہارے اعمال خدا کے حضور مقبول ہو جا ئیں گے تو تمہیں جزا ملے گی۔بظاہر نیکی کرنے والا ضروری نہیں کہ نیک ہو۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایک واقعہ ہوا۔ایک جنگ میں ایک شخص بڑی دلیری اور بہادری کے ساتھ اور جانثاری کے ساتھ مسلمانوں کی طرف سے دشمنوں سے لڑ رہا تھا۔بعض صحابہ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ بڑا ہی اعلیٰ مقام ہے اس کا ایمان کے لحاظ سے اور اس کی تعریف کرنے لگے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں یہ آواز پڑی تو آپ نے کہا یہ جہنمی ہے اور بعد کے واقعات نے بتایا ان لوگوں کو کہ واقعی وہ جہنمی تھا۔اس کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جاسکتا۔تو بظاہر نیک کام انسان کو ایسا نیک نہیں بنادیتا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ پیار کرنے لگ جائے۔پیار تو اللہ تعالیٰ اس نیکی سے کرے گا جسے وہ نیکی سمجھے گا۔اللہ تعالیٰ اس نیکی سے پیار نہیں کرے گا جس کو زید یا بکر یا عمرو یا میں یا تم نیکی سمجھتے ہو۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک بنیادی اصول ہمیں یہ بتایا کہ جس طرح دنیا میں یہ ہوتا ہے کہ مثلاً سیاسی اقتدار ہے۔ایک وفاقی حکومت میں صوبے ہیں۔وفاقی حکومت اپنے بہت سے سیاسی اقتدار جو ہیں وہ Delegate (ڈیلیگیٹ ) کر دیتی ہیں صوبوں کو۔ابھی جب پین میں مسجد