خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 230 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 230

خطبات ناصر جلد نهم ۲۳۰ خطبه جمعه ۲۱/اگست ۱۹۸۱ء ان کے حق میں پورے ہوں جو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک مطہر اور مزکی کے لئے دیئے ہیں۔مثلاً ان میں سے ایک یہ ہے کہ خدا ہمکلام ہوگا۔لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة: ۸۰) قرآن کریم میں ایک وعدہ یہ دیا گیا ہے کہ قرآن کریم کے مخفی معانی جن کا ضرورتِ زمانہ یا خطہ ارض کی ضرورت مطالبہ کر رہی ہے۔وہ نئے نئے علوم پاک لوگوں کو سکھائے جائیں گے۔قرآن کریم نے یہ وعدے کئے ہیں۔بہت سارے وعدے ہیں۔تفصیل میں جانا مشکل ہے۔اس حقیقت کو قرآن کریم نے ایک جگہ اس طرح بیان کیا کہ وَ لَو لَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُه اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی مَا زَ کی مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ آب ا ا تم میں سے کوئی کبھی بھی پاک اور مطہر اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں نہ ٹھہر سکتا وَلَكِنَّ اللهَ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ (النور : ۲۲) لیکن خدا جسے پسند کر لیتا ہے، اس کے اعمال کے نتیجہ میں ، اس کے دل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے نتیجہ میں ، اس عرفان کے نتیجہ میں جو وہ خدا تعالیٰ کی صفات کا حاصل کر سکا، خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے نتیجہ میں ، اسے وہ مُرسی قرار دیتا ہے۔وَاللهُ سَمِيع خدا تعالیٰ دعاؤں کو سننے والا ہے اس واسطے جو مطہر بننا چاہے اس کے لئے ضروری ہے کہ جو موتی بنانے والا ہے اس سے یہ دعا کرے کہ اے خدا! ایسے اعمالِ صالحہ بجالانے کی ہمیں توفیق عطا کر کہ ہم تیری نگاہ میں پاک اور مطہر بن جائیں اور علیم کہہ کر یہ بتایا کہ انسانوں نے جو جائزے لئے اور اربعہ لگایا اور فیصلے کئے وہ تمہیں نہیں بنائیں گے مذی ، خدائے علیم جس کی نگاہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں جب اس کی نگاہ میں تم مزکی قرار دیئے جاؤ گے تو حقیقتاً تمہارے حق میں وہ بشارتیں پوری ہوں گی جو خدا تعالیٰ نے پاک اور مطہر لوگوں کو دی ہیں۔تزکیہ کے لفظ کے متعلق بڑا اچھا نوٹ مفردات راغب ( جو قرآن کریم کی لغت ہے ) میں امام راغب نے دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ تزکیہ یہ ہے کہ أَنْ يَتَحَرَّى الْإِنْسَانُ مَا فَيْهِ تطهیره کہ انسان اپنی طرف سے ایسے اعمال بجالانے کی کوشش کرے جن میں اس کے لئے پاکیزگی ہو جنہیں وہ اپنے لئے پاکیزہ سمجھے اور وہ کہتے ہیں کہ قرآن میں فاعل اللہ ہوتا ہے۔اس لئے جو آیت میں نے پڑھی وَلَكِنَّ اللهَ يُزَرِّي مَنْ يَشَاءُ اس کے متعلق وہ کہتے ہیں کبھی فاعل تزکیہ عطا کرنے کا اللہ ہوتا ہے لِكُونِهِ فَاعِلٌ لِذلِكَ فِي الْحَقِیقة کیونکہ حقیقی معنی میں خدا ہی کسی کو