خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 220
خطبات ناصر جلد نهم ۲۲۰ خطبہ جمعہ ۷ /اگست ۱۹۸۱ء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس ہاتھ خود دھور ہے تھے اور اس کی صفائی کر رہے تھے۔کوئی ایسی نیکی اس نے کی ہوگی یہودیت میں رہتے ہوئے جو اللہ تعالیٰ کو پسند آئی ہوگی۔اس طرح اس کے اسلام کے سامان پیدا کر دیئے۔وہ آگے بڑھا اور اس نے کہا یا رسول اللہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ میری بیعت لیں کوئی شخص جس کا تعلق خدائے واحد و یگانہ سے سچا نہ ہو وہ اس قسم کے اخلاق کا نمونہ نہیں دکھایا کرتا جو آپ نے دکھایا ہے۔تو یہ ایک ذریعہ بن گیا اس کے اسلام لانے کا۔جو صحابہ آپ کے نقش قدم پر، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے والے تھے ساری دنیا میں گئے اور جو خلقِ عظیم اچھے اخلاق اس نقش قدم پر چلنے سے ان کی زندگی میں پیدا ہوئے تھے اس کے نتیجہ میں انہوں نے پیار کے ساتھ ، اور یہ پیار ہے جس کا سر چشمہ خلق عظیم“ ہے۔دیکھو حضرت داتا صاحب ( مظلوم ہیں بعض لوگ ان کی قبر پہ جا کے سجدہ کر دیتے ہیں ) جو خدائے واحد و یگانہ کی وحدانیت کے قیام کے لئے ڈیرہ ڈالے بیٹھے تھے لاہور سے باہر۔وہاں ہندو گجر تھے ، اپنی ساری گندگی کے ساتھ ، جسمانی بھی اور اخلاقی بھی ، وہ آپ کے پاس آتے تھے اور آپ کے اخلاق کا اثر لیتے تھے اور لاکھوں آدمی ان کے ذریعہ سے مسلمان ہوئے ، ان سے پہلے جو بزرگ آکے وہاں بیٹھے تھے ، اور جو بعد میں بیٹھے، پھر سارے ہی ہندوستان میں، اسلام جو پھیلا وہ ان بزرگوں کے اچھے اخلاق کے نتیجہ میں پھیلا۔ان بزرگوں کو اچھے اخلاق ملے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چل کے۔جو خلق عظیم خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا، اس میں سے ایک حصہ لے کے، ساری دنیا میں اسلام پھیلا دیا۔جو روشنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لی وہ روشنی لاکھوں کو منور کر گئی۔اس لئے محض احمدی بن جانا کافی نہیں جب تک ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حالات غور سے مطالعہ نہ کریں، انہیں سمجھنے کی کوشش نہ کریں ، سمجھنے کے بعد یہ عزم نہ کریں کہ ہم ان نقوشِ قدم پر ، پاؤں کے جو نشان ہمیں نظر آ رہے ہیں ، اخلاق کے میدان میں ہم ان کے مطابق آگے بڑھیں گے اس راہ پر ہم چلیں گے، اس وقت تک ہم اس انقلاب عظیم میں کوئی حصہ نہیں لے سکتے جس نے عروج کو اس زمانہ میں پہنچنا تھا۔