خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 212 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 212

خطبات ناصر جلد نهم ۲۱۲ خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۸۱ء ان کو ایک خاص جگہ پر خاص زاویہ سے اٹھاتے ہیں، پھر آگے لے کے جاتے ہیں مضبوطی کے لئے۔اس لئے ماہ رمضان میں لیلتہ القدر کی تلاش یہ ہمہ وقت خدا تعالیٰ کی طرف (Consciously) یعنی جانتے بوجھتے سوچتے سمجھتے ہوئے متوجہ رہنا دعا کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال کو قبول کرے، یہ ہمیں دوران سال کی عبادات سے آزادی نہیں بخشا بلکہ دورانِ سال کی جو مستقل روزانہ پانچ وقت نمازیں ہم ادا کرتے ہیں ان کو ایک بار مضبوطی بخشی جاتی ہے ہر سات دن کے بعد جمعہ کے وقت۔آپ نے فرمایا جو خلوص نیت کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ جھک کر دعائیں مانگنے والا ہوگا۔اللہ تعالیٰ ایسوں میں سے جن کے لئے پسند کرے گا وہ گھڑی میسر کر دے گا۔جس میں ان کی دعا قبول کر لے گا۔آپ نے یہ نہیں کہا کہ چھ دن مزے کرتے رہو۔نمازیں چھوڑتے رہو، ڈاکے مارتے رہو، تول میں کمی بیشی کرتے رہو، جو بھی حکم ہے خدا کا اس پر کار بند نہ رہو اور جمعہ کو تمہیں وہ گھڑی مل جائے گی نہیں ملے گی وہ گھڑی وہ گھڑی تب ملے گی جب آپ چھ دن خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل کر کے خدا کے حضور جھک کے کہیں گے کہ اے خدا! جو ہم نے تیری خاطر کام کئے ہیں ہزار ان کے اندر کمزوریاں ہیں، اب یہ جمعہ ہے تیرے وعدے ہیں۔اس میں برکتیں تو نے رکھی ہیں، ایسی برکتیں دے کہ جو پچھلے ہفتے کی کمزوریاں ہیں ہماری خلوص نیت کے باوجود وہ دور ہو جائیں۔ایک جگہ قرآن کریم میں آیا ہے کہ استقامت سے کام لو اور استغفار کر و یعنی خدا سے مغفرت چاہو۔یہ بات سات دن کی عبادات میں مضبوطی پیدا کرنے کے لئے ، اس پر حسن چڑھانے کے لئے نور میں شدت پیدا کرنے کے لئے ہے۔پھر سال کے بعد رمضان آجاتا ہے، بہت ساری عبادات کا مجموعہ، میں نے کئی دفعہ پہلے بھی بتایا یہ ایک عبادت نہیں محض بھوکا رہنے کی ، کثرت سے قرآن کریم کی تلاوت کی ہے، کثرت سے مستحقین کی طرف توجہ کرنے کی ہے، زبان کو قابو میں رکھنے کی عبادت ہے، دعائیں کرنے کی ہے راتوں کا عام راتوں کی نسبت زیادہ حصہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے یا سننے پر خرچ کرنے اور دعاؤں میں مشغول رہنے کا عمل صالح ہے۔یہاں پھر اللہ تعالیٰ نے سال بھر کی عبادات کی کمزوریوں کو دور کرنے اور انہیں زیادہ طاقت دینے کے لئے رمضان کا مہینہ رکھ دیا۔اگر گیارہ مہینے کسی نے