خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 203
خطبات ناصر جلد نهم ۲۰۳ خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۸۱ء وو روح پر میری عظمت اور کبریائی جو ہے وہ سایہ ڈال رہی ہوگی اور میری عظمت اور کبریائی کی خشیت اس کے دل میں پیدا ہوگی اور میری صفات کو دیکھ کے وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہو جائے گا کہ خدا تعالیٰ سے مانگے بغیر میری زندگی نا کارہ ہے اور اُجِیبُ دَعْوَةَ النَّاعِ إِذَا دَعَانِ وہ دعا کرے گا مجھ سے۔مجھے پکارے گا میں اس کی دعا کو قبول کرلوں گا اور دوسری طرف یہ کہا۔اس میں تو ایک اصول بیان کیا نا کہ جو پکارے گا اس کی پکار کو میں قبول کروں گا۔دوسری طرف یہ کہا کہ قُلْ ما يَعْبُوا بِكُم رَبِّي لَولا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان : ۷۸) اب ہماری خدا تعالیٰ کو یہ ضرورت تو نہیں ہے کہ ہم مزدوری کریں اس کی اور فائدہ پہنچائیں اسے۔اس نے مکان بنانے ہیں ہم راج اس کے جا کے راجگیری کریں اور مزدور اس کی مزدوری کریں تا کہ اس کو فائدہ پہنچے۔یہ تو نہیں ہمارا اللہ۔وه تو كن فيكون (البقرة : ۱۱۸) اس کی صفات کی بنیاد یہ ہے کہ ہر صفت کا جلوہ جو ہمارے وقت کا سیکنڈ ہے اس سے شاید کروڑ ویں حصہ میں ظاہر ہوتا اور وہ چیز بن جاتی ہے۔تو قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي کس چیز کی پرواہ کا یہاں ذکر ہے۔اعمالِ صالحہ، کہ تمہارے اعمالِ صالحہ کو میں کیوں قبول کروں۔اگر تم اس حقیقت سے نا آشنا ہو کہ تمہیں دعا کے ذریعہ میری رحمت کو جذب کرنا چاہیے اس کے بغیر تمہارے اعمال جو ہیں وہ مقبول اعمال نہیں بن سکتے۔آگے ہے فَقَد كَن بتم تم نے میری صفات کا انکار کر دیا۔تم نے میری ہدایت پر چلنے سے انکار کر دیا۔تمہارے اعمال جو تم بظاہر بے تحاشا پیسے خرچ کر کے علیحدہ دوسری جگہ ذکر آیا اس کا ، مجھے خوش کرنا چاہتے ہو بالکل خوش نہیں کر سکتے۔تمہارے اعمال مجھے خوش نہیں کر سکتے۔جب تک تم دعاؤں کے ذریعہ سے میری رحمت کو جذب کر کے اپنے اعمالِ صالحہ کو اعمال مقبولہ نہ بنالو۔یہ دو باتیں سمجھانے کے لئے رکھ رہا ہوں میں ایک آپ کے دائیں طرف اور ایک بائیں طرف۔پھر فرمایا۔اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : ۶۱) حکم دیا ہے پھر۔یعنی محض بندہ پر یہ کہہ کے بندہ پر یہ بات نہیں چھوڑی کہ دعا کرتا ہے یا نہیں۔ایک طرف یہ کہا میں تمہارے قریب ہوں۔مجھ سے ملنا چاہتے ہو دعائیں کرو۔میں قبول کروں گا۔دوسری طرف یہ کہا کہ تم مجھ سے میرا پیار حاصل کرنا چاہتے ہو اس لئے تم اعمال صالحہ بجالاتے ہو میری ہدایت کے مطابق جو قر آنی شریعت